islam

میں 20مئی 1889کو قصبہ اکال گڑھ کے متصل موضع چواتیاں ضلع گوجرانوالہ میں ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوا۔جواب پاکستان میں ہے۔ میرے والد محمد عظیم صاحب ایک زمیندار اور گاؤں کی مسجد کے پیش ایام تھے۔ میرے خاندان والے مسلمانوں کی ایک قوم “بھٹی راجپوت ” سے تعلق رکھتے تھے ۔ ہمارے آباؤ اجداد پنڈی بھٹیاں ضلع گوجرانوالہ کے تھے۔
میری ابتدائی تعلیم مولوی امام الدین صاحب کی سرپرستی میں اکال گڑھ کے مدرسہ میں ہوئی۔ میں نے عربی ،فارسی اور اردو کی تعلیم پائی۔ اس وقت صر ف یہی زبانیں پڑھنے کے لائق خیال کی جاتی تھیں۔ اوائل عمر ہی سے میں تلاش حق میں رہا۔ مجھے ابھی تک یاد ہے کہ میں پنجگانہ نماز پڑھ کر کتنا خوش ہوا کرتا تھا۔ ان مقررہ نمازوں میں نوافل بھی شامل کرلیا تھا ۔ مجھے فقیروں اور سادھوؤں کی صحبت سے خوشی ہوتی تھی۔ میں ان لوگوں سے مذہبی باتوں پر آزادانہ تبادلہ خیال کیا کرتا تھا۔ جب قرآن اور احادیث کا لائق طالب علم بن گیا اور عربی ،فارسی اور اردو میں لیاقت ہوگئی۔ تو میں نے اپنے لائق استاد مولوی امام الدین صاحب سے منطق وحکمت کی تعلیم حاصل کرنی شروع کردی لیکن فلسفہ کے مطالعہ نے مجھے دہریہ بنادیا۔ میں اس عقیدہ کو قبول نہ کرتا تھاکہ خدا گنہگار وں کو دوزح میں ڈالے گا۔ او رنہ ہی میں ایسے خدا کی عبادت کرنے اور اسے ماننے کو تیار تھا اگرچہ بظاہر میں ارکان اسلام کی پیروی کرتا تھا۔ لیکن میں جانتا تھا کہ میں صرف ناکام مسلمان ہوں۔ اس وقت میری عمر 17 سال کی تھی۔
مسیحیوں اور مسیحیت سے میرا پہلا تعلق
ایک نو عمر طالب علم کی حیثیت سے ہی میں نے مسیحیت سے متعلق کچھ واقفیت اسلامی رسالوں کے ذریعہ حاصل کرلی تھی مجھے خاص طور سے وہ مضامین اب بھی یاد ہیں جن میں مقدس پولس پر یہ الزام لگایا گیا تھاکہ انہوں نے نئے عہد نامہ (انجیل شریف ) میں مسیحیت کے سیدھے سادے عقیدہ کو توڑ مروڑ کر تثلیث ،مسیح کی الوہیت اور کفارہ ایسی من گھڑت باتیں شامل کردی ہیں۔
1906میں مجھے سرگودھا جانے کا اتفاق ہوا۔ اس وقت وہ زیر تعمیر اور چھوٹے سے قصبہ کی صورت میں تھا۔ جب میں اپنے خاندانی دوست ملک شیر محمد ٹوانہ کے ہاں مقیم تھا ۔ مجھے بدهضمی کی شکایت ہوگئی۔ملک صاحب نے مجھے مشورہ دیاکہ سرگودھا مشن اسپتال میں اپنا علاج کرالوں۔ وہاں میری ملاقات ڈاکٹر ایم۔ ایم براؤن میڈیکل مشنری اور کمپاؤنڈر سیموئیل صاحب سے ہوئی۔ سیموئیل صاحب بعد میں پادری ہوگئے اور میرے عزیز دوست بن گئے۔
اسپتال والے مریضوں کے ساتھ ایک عجیب چالاکی کیا کرتے تھے۔ تمام مریض ایک کمرہ میں جمع کئے جاتے تھے جہاں انہیں ایک پادری صاحب کے تبلیغی مسیحی گیت اور دعائیں سننا پڑتی تھیں۔اس وقت مجھے یہ باتیں بالکل پسند نہ تھیں۔ اس مجلس میں شرکت کے بعد مریضوں کو ایک پرچی دی جاتی تھی او رانہیں کہا جاتا تھا کہ وہ اسے احتیاط سے محفوظ رکھیں قدرتی طور پر مریضوں کو بائبل شریف کی ان آیتوں کے پڑھنے کا شوق ہوجاتھا جو ان پرچیوں کی پشت پر چھپی ہوتی تھیں۔ میری پرچی کے پیچھے ذیل کی آیتیں مندرج تھیں۔ “کیونکہ خدا نے دنیا سے ایسی محبت رکھی کہ اس نے اپنا اکلوتا بیٹا بخش دیا تاکہ جوکوئی اس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے۔”(انجیل شریف بہ مطابق راوی حضرت یوحنا باب 3 آیت 16)۔
“اور کسی دوسرے کے وسیلے سے نجات نہیں کیونکہ آسمان کے تلے آدمیوں کو کوئی دوسرا نام نہیں بحشا گیا جس کے وسیلے سے ہم نجات پاسکیں( انجیل شریف اعمالرسل باب 4 آیت 12)۔
“یہ بات سچ اور ہر طرح سے قبول کرنے کے لائق ہے کہ مسیح یسوع گنہگاروں کو نجات دینے کے لئے آئے جن میں سب سے بڑا میں ہوں” (انجیل شریف خطِ اول تمیتھیس باب 1 آیت 15)۔
آخری آیت نے مجھے پر کافی اثر کیا۔ بعد میں مجھے معلوم ہواکہ وہ آدمی جس نے یہ آیت لکھی اور خود کو سب سے بڑا گنہگار کہا پولس تھے وہی پولس جن پر مسیح کے سادہ پیغام کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کاالزام لگایا گیا تھا۔کیا ایسا آدمی دھوکا دے سکتا تھا؟ اس سے قبل میں نے کسی ایسے شخص کے بارے میں نہیں سنا تھا جس نے دوسروں کے سامنے دلیری سے اپنے گنہگار ہونے کا اعلان کیاہو۔ کیا ایسا دیانتدار آدمی سیدنا مسیح کی الوہیت اورکفارہ کے بارے میں سچ بات نہیں کہہ رہا تھا؟ میں نے فوراً انجیل شریف کا ایک نسخہ حاصل کرکے اسے پڑھنا شروع کردیا۔ جب ملک شیر محمد ٹوانہ نے اس نسخہ کو میرے پاس دیکھا تو انہو ں نے اسے لے کر پھاڑ دیا۔لیکن میں نے ایک اور نسخہ حاصل کرکے اس کی جلد بندی کروالی اورجب موقع ملتا میں انجیل شریف کا مطالعہ کیا کرتا تھا۔
میری ضرورت
جب میں انجیل مقدس پڑ ھ رہا تھا تو خاص طور پر رومیوں کے نام خط کے ساتویں باب کی چوتھی اور بعد کی آیتوں نے مجھ پر بڑا اثر کیا مجھ پر یہ بات روشن ہوئی کہ میں بھی گنہگار ہوں اورمجھے ایک نجات دینے والے کی ضرورت ہے میں نے اب تک اپنی زندگی میں یہی سنا تھا کہ خدا اچھے کام کرنے والوں پر مہربان ہوتاہے لیکن انجیل مقدس کا واضح طور پر یہ اعلان تھا کہ نجات نیک اعمال کرکے نہیں کمائی جاسکتی ۔ خدا صرف نیک اعمال ہی نہیں بلکہ دل کی تبدیلی چاہتا ہے۔لیکن سوال یہ تھاکہ ایک گناہ آلودہ دل کس طرح پاک اور بے داغ بن سکتاہے؟ اسی طرح انجیل مقدس میں ططس کے خط پر بھی غور کرتا تھاکہ جہاں یہ لکھا ہے کہ پاک لوگوں کے لئے سب چیزیں پاک ہیں مگر گناہ آلودہ اور بے ایمان لوگوں کے لئے کچھ بھی پاک نہیں بلکہ ان کی عقل اوردل دونوں گناہ آلودہ ہیں۔۔۔۔ (انجیل شریف خط ططس باب 1 آیت 15،16) اور اکثر یہ سوال پوچھتا تھاکہ جب آدمی کا دل اور اس کے خیالات ناپاک ہیں تو انہیں کیا چیز پاک وصاف کرسکتی ہے؟ پادری صاحبان کی مدد سے میں نے یہ معلوم کیا کہ مسیح نیادل او رنئی طبعیت بخشنے پر قادر ہے چونکہ پادری صاحبان کے مسلمات کی خود انجیل شریف نے متواتر تائید کی اس لئے مسیحی عقائد پر بتدریج میرا ایمان بڑھتا چلا گیا اب میں پادری صاحبان کے پاس اور بھی زیادہ آنے جانے لگا تاکہ مزید معلومات حاصل کرسکو ں۔
چوکیدار او رپانی بھرنے والا
ڈاکٹر براؤن ایک مرد خدا تھے۔ آپ طب کے ڈاکٹراور پرجوش مبشر تھے۔ آپ اپنے ہم خدمت کارکنوں کے ہمراہ دیہات میں جاکر بیماروں کو شفا دیتے اور خدا کے کلام کی تبلیغ کیا کرتے تھے ۔بار برداری اونٹوں کے ذریعے ہوا کرتی تھی۔ جب میں نے سنا کہ ان کی جماعت سردیوں میں دورے پرجانے کا بندوبست کررہی ہے تو میں نے بھی اس جماعت میں شامل ہوجانے کا فیصلہ کرلیا میں نے ڈاکٹر براؤن صاحب سےایک کارکن کی حیثیت سے ان کی جماعت میں شمولیت کی درخواست کی۔انہوں نے مجھ سے کہا کہ مجھے ایک چوکیدار کی ضرورت ہے ۔ میں تو راضی تھا ہی لہذا کام پر لگ گیا۔ بحیثیت چوکیدار میں اس خیمہ کی نگرانی کرتا تھا جس میں ڈاکٹر براؤن کا خاندان رہتا تھا۔ ایک دفعہ ڈاکٹر براؤن کی اہلیہ نے کہاکہ ان کا پچھلا چوکیدار باور چیخانہ اور غسل خانہ میں استعمال کے لئے پانی بھی بھراکرتا تھا۔ انہوں نے چاہا کہ میں بھی اسی کے نقش قدم پر چلوں ۔ میں اس پر بھی راضی ہوگیا۔ لیکن ایک ایسے آدمی کے لئے جو اس قسم کے کام کا عادی نہ ہوپانی سے بھرے ہوئے دوکنستروں کو بانس کے ایک ٹکڑے کے دونوں سروں پر لٹکا کر لانا بڑا دشوار تجربہ تھا۔ گو میرا کندھا مجروح ہوگیا تو بھی یہ بخوبی جانتا تھا کہ میری آٹھ روپئے ماہوار تنخواہ اس وقت یعنی 1906 میں ایک پولیس کانسٹبل کی تنخواہ کے برابر تھی۔ میں نے اس نوجوانی کے عالم میں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھا اور اس خدمت کو کئی ماہ تک انجام دیا۔
اس عرصہ میں انجیل شریف مسلسل میری رفیق رہی ڈاکٹر براؤن صاحب کی دی ہوئی لالٹین کی روشنی میں ہر رات اسے پڑھتا کرتا تھا۔ تاہم جب کبھی مسیحی ہوجانے کا خیال میرے ذہن میں آتا تو میں اسے شیطانی وسوسہ سمجھ کر دور کردیا کرتا تھا۔ میں سیدھے سادے شتر بانوں کو قرآن شریف سنایا کرتا تھا جو مجھے مولوی صاحب کہہ کر مخاطب کیا کرتے تھے۔ لیکن ایک رات میں دل سے قائل ہوگیا کہ انجیل شریف خدا کاکلام ہے اس سے پہلے میرے دل میں ذیل کے شکوک تھے۔
(۱) چنانچہ “وَلوَ بُوا خذ الله الناس َ بظلمھہ ماَترَکہ عَلیھاَ مِن داَبةِ اور اگر الله ،انسانوں سے ان کے ظلم کا مواخذہ کرے ۔ تو زمین پر کسی متحرک کو نہ چھوڑے ( سورہ نحل آیت 106)
اور صیحین کی حدیث ہے کہ لَن یُد خِل َ اَحد َ امنَکمہ عَلمہُ الجنة قاَلواُ وَلا اَنت َ یاَرسولَ اللهِ قاَل َ وَلاَ اَنا اِلا اُن یغمدُنی الله بفضلِ وَرحمة ” یعنی آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں تم سے کسی کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرے گا۔انہوں نے پوچھا اے رسول الله آپ کو بھی تو کہا مجھے بھی خبر نہیں بجز اس کے کہ خدا کا فضل اور رحمت مجھے ڈھانک لے۔ پس قرآن شریف کے واضح بیان اور حدیث شریف کی تصدیق سے خدا کے فضل کے ڈھانکنے کے بغیر کسی بشر کی بھی نجات ممکن نہیں۔ لیکن نہ قرآن شریف میں او رنہ حدیث میں فضل کے ڈھانکنے کی معقول تو جہیہ پیش کی گئی ہے کہ جس سے وہ خود بھی عادل رہے اور فضل کی پناہ لینے والے کو راستباز ( نہ صرف معافی کی صورت میں بلکہ پاکیزگی کی صورت میں بھی ) ٹھہراسکے کیونکہ معافی بلا عدل کی تکمیل کے خلاف عدل اور خدا تعالیٰ کی قدوسی کے منافی ٹھہریگی۔اور محض معافی حاصل کرنے سے پاکیزگی کے بغیر قدوس خدا سے ملاقات ووصال ممکن نہیں کیونکہ روشنی اور تاریکی میں کیا موافقت اور ناپاک طبیعتوں کا قدوس سے کیونکر میل جول؟ پس فضل کے افادہ استفادہ کی معقول توضیح مجھے کہیں نہ مل سکی۔
(۲)ازروئے قرآن شریف وحدیث شریف نجات کا مدار توحید پر ایمان لانا اور اس کا اقرا ر کرنا ہے۔ لیکن وحد ت الہٰی کی ثبوتی تعریف نہ تو مجھے قرآن شریف میں ملی نہ حدیث شریف اور علم الکلام میں۔ پس مجھے یہی معلوم ہواکہ اسلام میں وحدت الہیٰ کے صرف سلبی معنی یعنی عدم کثرت ہی بیان کئے گئے ہیں۔ ثبوتی صورت میں وہ کسی معنی کی ازلی کثرت کی طرف مضاف نہیں بلکہ ہر طرح کی کثرت کا مفہوم اس کی وحدت کی ضد کے طور پر ہے۔ اور عقلی طور پر ایسے واحد کا وجود ممتنع ہے۔
(۳) اسلام میں خدا تعالیٰ کو اکیلا ازلی مانا جاتاہے اورساری مخلوقات کو حادث لیکن ازلی خدا اور حادث مخلوق میں کوئی واسطہ نہیں مانا جاتا جس کی اضافت ازلی خدا اور حادث مخلوق دونوں کے ساتھ ہو تاکہ خدا تعالیٰ جو دنیا کی پیدائش کی ازلی علت ہے او رمخلوقات جو حادث معلول ہے ان میں زمانہ کا تقدم وتار خر لازم نہ آئے۔
(۴) غیر محدود ازلی خدا کی طرف سے افادہ عرفان والہام سے محدود حادث انبیاء کے استفادہ کے لئے ایک محدود حادث مخلوق یعنی فرشتہ کو ہی واسطہ ماناگیا ہے۔ حالانکہ کسی محدود حادث محض ہستی کے لئے ازلی وغیر محدود خالق سے بلا واسطہ استفادہ الہام وعرفان محال ہے۔ پس اس فرشتہ کے لئے ایک اور واسطہ کی ضرورت ہوگی اور س کے لئے ایک اور کی۔ جس سے تسلسل لازم آئے گا اور بلا ایسے واسطہ کے جو قدیم وحادث اور غیر محدود ومحدود دونوں کی طرف مضا ہوا۔ الہام وعرفان الہٰی سے حادث ومحدود انبیاء کے لئے استفادہ قطعا محال ٹھہرے گا۔
(۵) قرآن شریف میں توریت وانجیل کے نام سے ان پر ایمان لانے کا حکم بالتصریح موجود ہے اور ان کو ہدایت ونور ٹھہرا یاگیا ہے۔اگر وہ کتابیں قرآن شریف کے زمانہ سے پہلے بگڑ چکی یا معدوم ہوچکی تھیں تو فرقان میں اس امر کی توضیح وتصریح ضرور تھی کہ توریت وانجیل کا نام لے کر بتایا جاتا کہ وہ اب بگڑ چکی یا معدوم ہوچکی ہیں اس لئے ان پر ایمان نہیں لانا چاہیئے ۔پھر حضر ت ابن عباس جو امام المفسرین ہیں اور امام بخاری جو امام المحدثین ہیں دونوں اس امر پر متفق ہیں کہ ” قُال ابن عَباس ِ یحرِفون َ یُزیلونَ ولیس اَحدَ یزیل لُفَظَ کِتابٍ مِن کتُب الله وَلکھنمہ یُحرفونہ اَی یَتاَ وَلونہَ عَلی غیر ِ تاَویلہِ یعنی ابن عباس نے کہا کہ “یحرفون” سے مرا” یزیلون” ہے حالانکہ کتاب الله کے ایک لفظ کو بھی بگاڑ نہیں سکتا ۔ لیکن وہ تحریف کرتے تھے یعنی صحیح کی بجائے ان کی غلط تاویل پیش کرتے تھے (صحیح بخاری) اس کے مطابق جبکہ 325ء کا لکھا ہوا قلمی نسخہ اب تک وٹیکن میں محفوظ ہے جو موجودہ کتب مقدسہ کو درست ٹھہراتا ہے تو ظاہر ہے کہ قرآن شریف کے بعد توریت وانجیل کو محرف یا جعلی قرار دینا ممکن نہیں اس لئے چونکہ نہ قرآن شریف سے پہلے توریت وانجیل بگڑ چکی یا معدوم ہوچکی ہیں اور نہ اس کے بعد ۔
اول ۔مسلم علما کا عام خیال جو موجودہ توریت و انجیل کی صحت کے خلاف ہے باطل ٹھہرتا ہے ۔ دوم ۔ موجودہ مسیحی عقائد کتاب مقدس کی تعلیمات پر مبنی اور اس سے مستنبط ہونے کی وجہ سے صحیح ٹھہرتے ہیں۔
(6) اگر انجیل شریف حضرت مسیح کے بعد قریبی زمانہ میں بگڑ چکی یا معدوم ہوچکی تھی جیساکہ علمائے اسلام کا وہم ہے تو اس وقت سے لےکر آنحضرتﷺ کے دعویٰ نبوت تک خدا ئے وحکیم ورحیم وقدیر کی طرف سے روحانی ہدایت کے افادہ کا قطعاًلازم آتا ہے جس سے الہٰی ذات کے خلاف پرلے درجہ کا کفر لازم آئے گا۔
(7)کیا یہ ممکن ہے کہ توریت وانجیل کے الہامی صحیفے جودنیا کی ہدایت کے لئے خدا ئے حکیم وعلیم وقدیر ورحیم نے عطا کئے تھے وہ بگڑ کر یا معدوم ہوکر بگڑ ہوئی جعلی صورت میں یاقیامت باقی رہیں جس سے خدا تعالی اپنے مقصد میں ایسا ناکام ثابت ہو کہ جو کتابیں اس نے دنیا کی ہدایت کے لئے عطا کی تھیں وہ اس کے مقصد کو پورا کرنے اور ہدایت پھیلانے کے لئے تاابد باقی رہیں۔
ان مشکلات کا حل مجھے کلام مقدس میں مل گیا اور مجھے کامل یقین ہوگیاکہ مسیح کے کام اور تعلیمات کا بیان سچائی کے ساتھ اس میں لکھا گیا ہے۔مسیح کی الوہیت اس کی موت اور اس کے جی اٹھنے کے راز اور یہ تمام عقائد جو اس سے پہلے مجھے عجیب سے معلوم ہوتے تھے پولس کی اختراع نہیں ہیں۔ اب میں سمجھ گیا کہ آدمی اپنے اعمال سے نہیں بلکہ مسیح میں خدا کے فضل سے نجات پاتا ہے اور دل کی تبدیلی بھی اسے میسر ہوجاتی ہے۔
بپتسمہ میں رکاوٹیں
ایک روز بہت صبح جب ڈاکٹر براؤن صاحب اپنے خیمہ سے باہر جارہے تھے میں نے ان سے درخواست کی کہ مجھے بپتسمہ دیا جائے بعد میں ان کے خانساماں بہاری نے بتایا کہ صاحب کہہ رہے تھے کہ ” بپتسمہ لینے سے تمہاری تنحواہ نہیں بڑھے گی ” تو مجھے بہت تعجب ہوا اس پر میں نے جواب دیا کہ ” اب تک میں نے جتنی بھی تنخواہ پائی ہے وہ سب واپس کردوں گا اور بپتسمہ پاتے ہی یہاں سے چلا جاؤں گا ۔ یہ سن کر ڈاکٹر براؤن نے مجھے تسلی دی اور میرے لئے دعاکی۔
دوسرے اتوار دیہات سے بہت سے بھنگی عبادت کرنے آئے۔ وہ مسیحی ہونے پر راضی تھے اور ایک مسیحی کارندہ کی مدد سے بپتسمہ کے لئے تیار کئے گئے تھے۔ عبادت کےشروع ہونے سے پہلے ایک دوسرے مشنری پادری صاحب نے ان سب کو جو بپتسمہ کے خواہشمند تھے سامنے آنے کی دعوت دی ۔بھنگی اگلی صف میں آکھڑے ہوگئے میں بھی اٹھ کر ان میں شامل ہوگیا۔ مشنری نے مجھے الگ بیٹھ جانے کا اشارہ کیا اور میرے کان میں آہستہ سے کہا کہ وہ اس وقت صرف بھنگیوں کو بپتسمہ دینا چاہتے ہیں میں مایوس ہوکر الگ بیٹھ گیا۔ عبادت کے بعد میں مشنری پادری سے ملا اور اپنے بارے میں ان کے رویہ کی شکایت کرتے ہوئے کہا “آپ نے ان بھنگیوں کوجو انجیل شریف نہیں جانتے ہیں بپتسمہ دینا چاہا لیکن میں انجیل شریف اچھی طرح جانتا ہوں مجھے آ پ نے رد کردیا۔”ان کو بڑ ا تعجب ہوا پھر انہو ں نے مجھ سے پوچھا کہ ” کیا تم اردو جانتے ہو” میں نے کہا اردو ہی نہیں بلکہ عربی اور فارسی بھی جانتا ہوں “انہوں نے اردو میں میرا امتحان لیا میرا خیال ہے کہ ان کو یقین نہیں تھا کہ کیمپ کا چوکیدار اور پانی بھرنے والا اردو بھی پڑھ سکتا ہے۔ انہوں نے اردو کی مشہور کتاب توبتہ النصوح میں سے چند الفاظ کے معنی اور مصدر مجھ سے پوچھے ۔ایک لفظ مسئلہ تھا جس کا غلط تلفظ کررہے تھے۔ میں نے ان کے تلفظ کی اصلاح کی۔ میرا یقین نہ کرتے ہوئے انہو ں نے لغت منگوائی ۔ لغت نے میرے تلفظ صحیح ہونے کی تائید کی۔ اس طرح انہیں میرے علم کا یقین ہوا۔ میں نے ان سے کہا کہ میں مسیحیت کے بنیادی عقائد سے واقف ہوں اور ان کو سوال پوچھنے کی دعوت دی جس پر ڈاکٹر براؤن ان کے خاندان اور جماعت کے دوسرے لوگوں نے میرے بارے میں اتنی غفلت برتنے اور ایک سخت کام سپرد کرنے کے سلسلہ میں معافی مانگی۔ انہو ں نے تجویز پیش کی کہ میں سانگلا ہل چلا جاؤں تاکہ وہاں میرا بپتسمہ ہوجائے۔میں سانگلا ہل میں بھی بپتسمہ حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ کیونکہ وہاں میری عمر کا سوال اٹھ کھڑا ہوحالانکہ اس وقت میری عمر ٹھیک اٹھارہ برس کی تھی یعنی میرا صحیح سن پیدائش 20مئی 1889ء تھا۔ لیکن اس وقت کے عام رواج کے مطابق سکول سر ٹیفکٹ میں میری تاریخ پیدائش 20 مئی 1891ء لکھی ہوئی تھی۔ اس کے بعد میں شاہ کوٹ گیا۔ وہاں کے پادری صاحب نے سیدنا مسیح کی الوہیت اور تثلیث پر مجھے اعتراضات کرنے کی دعوت دی۔ چنانچہ میں نے اعتراض کئے اور جواب نہ بن آنے پر مجھے جھڑکا اور بپتسمہ کے لائق نہ سمجھا۔ اور کہا جس شخص کے ذہن میں ایسے اعتراضات موجود ہیں ۔ وہ مسیحی نہیں ہوسکتا ۔ آخر کار ایک مشہور پادر ی جی ایل ٹھاکر داس صاحب نے جوبہت سی کتابوں کے مصنف ہیں دو ماہ بعد مجھے بپتسمہ دینے پر رضا مندی ظاہر کی اور میرا بپتسمہ 1908ء میں اکتوبر کے پہلے اتوار کوشہر لاہور میں ہوا۔
حضرت سیدنا مسیح کے شاگرد کی حیثیت سے زندگی
اب میری زندگی آسان نہیں تھی۔ میں نے بہت دفعہ ملازمت ڈھونڈی لیکن ناکام رہا۔ یہاں تک کہ میرے کپڑوں کا ٹرنک بھی کھوگیا۔ اور میں قریب قریب قلاش ہوگیا۔ اور اس حالت میں خدا سے رہبری اور مدد کے لئے دعائیں کیا کرتا تھا۔ مجھ پر یہ بات عیاں ہوگئی کہ میں قادر مطلق خدا کی نسبت آدمیوں پر زیادہ بھروسہ کررہا تھا۔ چنانچہ اسی وقت میں نے عہد کیاکہ آئندہ کسی آدمی کے آگے ملازمت کے لئے ہاتھ نہ پھیلاؤں گا۔ اور اپنا مستقبل خدا کو سونپ دیا کام ملنے لگے۔ مجھ سے درخواست کی گئی کہ میں احمدیوں کی طرف سے پیش کردہ سوالات کے جوابات لکھوں۔ مسیحی رسالہ نور افشاں کے ایڈیٹر نے میرے ان جوابات میں بڑی دلچسپی لی اور مجھے نور افشاں کے دفتر میں کام بھی دے دیا۔
کچھ عرصہ بعد سہار نپور کے مدرسہ دینیات میں مزید تعلیم کے لئے بھیج دیاگیا 1916ء سے 1919ء تک مدرسہ دینیات کے دوران ِقیام میری شادی کا انتظام ہوگیا۔ دینیات کے مدرسہ کی طالب علمی کے زمانہ سے پہلے ہی مجھے غیر مسیحی علماء کے ساتھ مناظرہ کا سابقہ پڑا ۔چنانچہ 1915ء میں سہر مالیر کوٹلہ میں ( جواس وقت ریاست کا صدر مقام تھا ) میرا مناظرہ قادیانی جماعت کے مشہور مناظر حافظ روشن علی صاحب سے ہوا اور 1917ء میں آریوں کے مشہور مناظر پنڈت رامچندر صاحب دہلوی کے ساتھ سہارنپور میں مناظرہ ہوا۔
مسیحی دینیات کی تعلیم کی تکمیل کے بعد میں نے بحیثیت پاسبان اور مبشر کئی مقامات پر خدمت کی 1926ء سے 1939ء تک تھیولاجیکل کالج سہارنپور میں پروفیسر رہا پھر بحیثیت مبشر اور مشنری بھی کام کیا اور بعد ازاں میں نے کئی مسیحی تنظیموں میں ناظم ،مبشر اورمصنف کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور ہندوستان کے اکثر وبیشتر حصوں میں جانے کے مواقع ملے 1957ء سے چندی گڑھ میں مقیم ہوں جہاں سے مسیحی بشارت کی خدمت بفضل خدا حسب سابق انجام دے رہا ہوں۔
اکبر عبد الحق
میرے مختصر حالات زندگی پڑھنے کے بعد قارئین میں سے بعض میرے بیٹے اکبر کے بارے میں کچھ جاننا پسند کریں گے اس لئے آپ سے ا س کا بھی مختصر تعارف کرائے دیتا ہوں میر ے چھ لڑکوں اور تین لڑکیوں میں یہ سب سے بڑا ہے لدھیانہ میں 24 ستمبر 1920ء کو پیدا ہوا۔ گارڈن کالج روالپنڈی ،مری کالج سیالکوٹ اور اورنٹیل کالج لاہور میں تعلیم پائی حصول تعلیم کے اس عرصہ میں اس نے فلسفہ میں ایم ۔ اے اور فارسی میں ایم اے کیا آزاری سے قبل وہ فورمین کرسچین کالج لاہور میں لچکرار تھا بعد میں اس نے امریکہ میں تعلیم حاصل کی اورد ینیات میں پی ایچ ڈی میں کامیاب ہوا۔ علی گڑھ میں ہنری مارٹن اسکول کی بحیثیت اسٹاف ممبر خدمت کرنے کے بعد اسی ادارہ کا وہ پرنسپل بنایا گیا۔ 1957ء میں امریکہ کے مشہور مبشر بلی گراہم کی ٹیم میں بحیثیت مبشر خدمت کرنے کے لئے اس نے پرنسپل کے عہدہ سے سبکدوشی حاصل کرلی یہ خدمت خدا کی مدد سے وہ آج تک کررہا ہے۔ 1955ء میں جب نیشنل مشنری سوسائٹی کے نمائندہ کی حیثیت سے امریکہ گیا تو میرا مترجم اکبر ہی تھا۔ اکبر کے عہد طفولیت میں ہی میری اہلیہ اور میں نے اسے مسیح کی خدمت کے لئے مخصوص کردیا تھا خدا کے فضل وکرم سے وہ ابھی تک اس بلاہٹ پر ثابت قدم ہے۔
میں اس مضمون کے آخر میں اپنی یہ شخصی گواہی پیش کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ میں نے 1908ء میں مسیح کو اپنا شخصی نجات دہندہ قبول کیا اور اپنی گزشتہ مسیحی زندگی کے 59 سالہ تجربہ کی بنا پر صدق دل سے یہ گواہی دیتاہوں کہ بابئل مقدس کی تعلیم میں مجھے ہر روحانی مشکل کا حل مل گیا اور زندہ مسیح کا قادر اور خفیہ ہاتھ گزشتہ ساری مسیحی زندگی میں لگا تار میں اپنے باطنی وجدان میں محسوس کرتا رہا اس نے کس طرح ہولناک او رمہلک آزمائشوں میں بار بار میری مددوحفاظت کی او راپنی زندہ ہستی اور روحانی سچائیوں کا کامل یقین اورحقیقی اطمینان مجھے بخشا ۔ میرے دوستو میں آپ کو عاجزی سے یہ رائے دیتا ہوں کہ آپ دعا کے ساتھ خدا کے کلام بائبل مقدس کو پڑھئے اور خود اپنے لئے خدا کے فضل کامزہ چکھئے ۔ مسیح نے فرمایا ہے ” آسمان اور زمین ٹل جائیں گے لیکن میری باتیں ہر گز نہ ٹلیں گی۔”(انجیل شریف بہ مطابق راوی حضرت متی باب 24 آیت 35)۔

ان کی تصانیف



واپس جائیں