islam

واقعاتِ عمادیہ
جوکہ بندہ راقم ۲۹اپریل 1866ء میں محض حصول نجات کےلئے عیسائی ہوگیا ہے مگربہت لوگ میرے بزرگ یادوست آشنا یا خوردوغيرہ میری نسبت طرح بہ طرح کے خیالات کرتےہیں بعض کہتے ہیں کہ عمادالدین محض اسم فرضی ہے چنانچہ پشاور میں بعض کو یہی گمان ہے اوربعض کہتے ہیں کہ طمع دنیاوی سے عیسائي ہوگیا ہے اور بعض سخت معتقد بندہ کی عیسائیت کو یقین ہی نہیں کرتے چنانچہ قرولی وغيرہ میں یہی خیال ہے اسلئے میں نے لازم جانا کہ اپنا سب احوال اس طرح پربیان کروں کہ سب واقف کارمعلوم کرلیں کہ یہ وہی شخص ہے پس واضح ہو کہ اپنے حسب نسب کی بابت مجھے اس قدر معلوم ہے کہ ہمارے بزرگ ہانسی شہر کےباشندے تھے ۔اُنکی تفصیل یوں ہے کہ شہر ہانسی میں جوبارہ قطب ہیں اُن میں سے ایک قطب جن کا نام شیخ جمال الدین ہے اُن کے بیٹے شیخ جلا الدین تھے اُن کے بیٹے شیخ فتح محمد تھے اُن کے بیٹے مولوی محمد سردار ہوئے اُن کے بیٹے مولوی محمد فاضل تھے اُن کے بیٹے مولوی محمد سراج الدین ہوئے اُن کا بیٹا میں اور اور میرے بھائی بہن ہیں بزرگوں سے سنتا ہوں کہ شاہ جہان کےعہدمیں میرے بزرگوں کو قدرے عروج تھا۔ چنانچہ مرہتٹوں کیوقتمیں بھی سب املاک واگذاشت رہی ۔لیکن داداکیوقتمیں جب سرکاری عملداری آئے تو میری دادا ہیکی غفلت سے وہ سب املاک سرکار انگلشیہ میں ضبط ہوگئی۔اور گذرواوقات ہمارا تعلیم وتعلیم پر آٹھہرا۔
ہم لوگ پانی پتی مشہور ہیں ۔ اسکی وجہ ہے کہ میرے دادا یعنی مولوی محمد فاضل بعدتباہی املاک شہر ہانسی سے اُٹھ کر شہرپانی پت میں آبسے تھے یہ شہر پانی پت شریف ذادوں کی بستی ہے بڑے متشرع متعصب مسلمان قدیم سے یہاں پر رہتے ہیں کسی زمانہ میں بڑے فاضل اور مشائیخ محمدی مذہب کے اس شہر میں رہتے تھے اوربڑے بڑے کتب خانے عربی فارسی کتابوں اُن کے پاس موجود تھے ۔میرے بزرگ وار یہاں پر جو آرہے تھے ” اسکی وجہ یہ تھی کہ غلام محمد خا افغاں جوایک امیر کبیر آدمی تھے اوراُن کے خاندان میں بادشاہوں کےعہدسے حکومت اورمارت چلی آتی تھی وہ اس شہر کے ایک بڑے رئیس تھے اُنہوں نے میرے جدبزرگوار کو اپنی رفاقت میں رکھ لیا تھا اوربہت تعظیم وتکریم بباعث اُن کی علمیت کے کرتے تھے اورہر طرح کی معاونت کیا کرتے تھے اسلئے میرے دادا نے اپنی زندگی اسی شہر میں غلام محمد خاں کے ساتھ اچھی عزت حرمت سے دین محمدی کی پیروی میں بسر کی اُن کے بعد میرے والد مولوی سراج الدین آج تک اُسی شہر میں بیٹھے ہیں ساری عمر عبادت اور شریعت محمدیہ کی متابعت میں اُنہوں نے گذرانی اوراُسی طرح غلام محمد خاں افغاں کی اولاد اُن کی تعظیم وتکریم اوستادانہ کرتے رہے چنانچہ اب تک اس شہر کا رئیس عبداللہ خاں افغاں پوتا غلام محمد خاں کا جو اپنے جدبزرگوار کا جانشین ہے اگرچہ وہ عروج نہیں رہا تاہم میرے باپ کی تعظیم اُسی طرح کرتا ہے والدمیرے بڑی عمر کے ہوگئے ہیں مگر اوقات عبادت میں اُن کی ہرگز فرق نہیں آیا برابر وظیفہ خوانی وشبداری جاری ہےہاں حواس میں کچھ خلل آگیاہے تاہم میں نے خداوند کا پیغام اوراُس کی نجات کی خوشخبری بذریعہ خط اُن کے پاس بھیج دی ہے اگر چاہیں توتسلیم کرلیں ورنہ اختیار ہے ۔ مشکل یہ ہے کہ محمدی مشائیخ جہل مرکب میں پھنسے ہوئے ہیں وہ یہ جانتے ہیں کہ ہم کو نبیوں کا مطلب اورشریعت الہٰی کا بھید محمد صاحب کی معرفت کچھ معلو م ہوگیا ہے چونکہ اُنہوں نے انجیل وتوریت نہیں پڑھی بلکہ اُس پاک کتاب کے حق میں بموجب ادعامحمد صاحب کے تحریف وتنسیخ کا ہمیشہ سے چرچا سنتے رہے اورکبھی عیسائیوں کے ساتھ صحبت کرکے اُن کا اصل حال اُنہوں نے دریافت نہیں کیا اورایک مدت دراز سے پشت درپشت دھوکے میں پڑے ہوئے چلے آئے ہیں اسلئے عیسائیوں کو نہایت بُرا جانتے ہیں اورہرگز نہیں مانتے ہاں اب کچھ کچھ تعصب اورجہالت اس ملک سے دورہونے لگی ہے۔
میرا حال یہ ہے کہ ہم چار حقیقی بھائی تھے چھوٹابھائی معین الدین 1865ء میں مرگیا ۔ سب سے بڑے بھائی مولوی کریم الدین ہیں جو کہ اس زمانہ میں بہت بڑے مصنف اورفخر خاندان ہیں مدارس حلقہ لاہور کے ڈپٹی انپسکٹر ہیں اُن کی تصنیف سے بہت سی کتابیں عربی فارسی اردو زبان میں مروج ہوچکی ہیں مذہب اُن کا اسلام ہے ۔ مگر کچھ تحقیقات بھی کررہے ہیں۔
اُن سے چھوٹے بھائی منشی خیرالدین ہیں جو کہ پہلے لودیانہ اورہوشیار پورکے مدارس کے وزیر تھے اب باپ کی خدمت میں بمقام پانی پت رہتے ہیں وہ بھی سمجھدار اوربے تعصب آدمی ہیں اگرموت کا فکرکرکے آخرت کا انتظام کریں تو راہِ راست پاسکتے ہیں۔ پر افسوس کہ اُن کے پاس کوئی دیندار مغالطہ میں سے نکالنے والا نہیں ہے ۔ سب کے سب دھوکا دینے والے اور ٹیڑھی تقریروں کے سنانے والے اُن کے پاس رات دن موجود ہیں خداوند ان سب کا رہبر ہو۔
اُن سے چھوٹا میں ہوں نام میرا عمادالدین ہے۔پندرہ برس کی عمر میں خویش واقارب کو چھوڑ کر علم حاصل کرنے کیلئے اکبرآباد میں گیا تھا وہاں پر میرے بھائی مولوی کریم الدین گورنمنٹ کالج میں مدرس اول اردو کے تھے ۔اُن کی خدمت میں بہت دنوں تک رہ کر تعلیم پائی اور چونکہ علم پڑھنے سے میری غرض صرف یہی تھی کہ کس طرح اپنے خداوند کو پاؤں کیونکہ محمدی واعظوں سے سنا تھا کہ بغیر علم کے خدا کی شناخت حاصل نہیں ہوسکتی اسلئے ان ایام طالب علمی میں بھی جب فرصت ملتی تو فقراء وصلحاء وعلماء کی خدمت میں جاکر دین کا فائدہ حاصل کیا کرتا تھا۔ مسجدوں میں خانقاہوں اور مولویوں کے گھروں پر بھی جاکرفقہ تفسیر حدیث ادب منطق فلسفہ وغيرہ سیکھا کرتا جبکہ میں طالب علمی کرتا تھا اوربھی علومدینیہ کچھ حاصل نہیں کئے تھے کہ اُن ایام میں کئی عیسائیوں کی صحبت کے سبب مجھے دین محمدی پر شک پڑگیا۔ لیکن مجھے مولویوں اورمسلمانوں نے لعن طعن کرکے ایسا گھبرادیا کہ میں جلدی اُس خیال سے کنارہ کش ہوگیا چنانچہ میرے دوست مولوی صفدر علی ڈپٹی انسپکٹر مدارس جبپلور جو اُن ایام میں کالج کے اندر تھے اور بڑے متعصب سخت مسلمان تھے جنکی ایمانداری اور راستبازی ونیک کرداری اورلیاقت علمی کا میں گواہ ہوں اُنہوں نے میرے دل کے شکوک معلوم کرکے بڑا افسوس کیا اورمجھے کہا کہ دیکھ تو گمراہ ہوتا ہے ابھی تونے دین کی کتابیں نہیں پڑھیں عیسائیوں نے تجھے گمراہ کردیا ہے یہ خیال دے سے دورکر اوردین محمدی کی کتابیں غور سے پڑھ کر دیکھ کہ کون حق ہے چنانچہ یہ مولوی صفدر علی مجھے اپنے استاد مولوی عبدالحکیم کے پاس جو کہ نواب باندی کے ملازموں میں سے ایک شخص تھے اوردین محمدی کے بڑے فاضل اورواعظ تھے لے گئے اس وقت میں کتاب حمد اللہ پڑھتا تھا میں نے اپنے اعتراض اُن کے سامنے پیش کئے اگرچہ وہ میرے اعتراضوں کے جواب تونہ دے سکے توبھی قرآن کی کئی ایک آیات پڑھ کر اُنہوں نے مجھے سنائیں اورخفگی بھی بہت سی ظاہر کی ۔ اسلئے ہم دونوں اُن کے پاس سے سست ہوکر اٹھ آئے اوراُس دن سے اس کا خیال چھوڑ کر علم حاصل کرنے میں کوشش کرنی شروع کردی ۔ سب خیالات چھوڑ کر رات دن پڑھنا شروع کیا اُسی طرح آٹھ دس برس گذرگئے اورچونکہ مں ہر علم کو خداوند کے پہچاننے کا وسیلہ جان کر پڑھتا تھا اسلئے جس قدروقت اس کا میں خرچ ہوتا میں اُس کوعبادت الہیٰ خیال کرتا تھا۔
القصہ جبکہ ضروری واقفیت علوم دینیہ محمدیہ سے ہوگئی اورمحمدی تعصب سے میں بھرپور ہوگیا توآگے ایک اورجال محمدی عالموں نے لگارکھا ہے کہ جس میں پھنس کر طالب حق بڑاد ھوکا کھاتاہے بلکہ اپنی زندگی مفت برباد کردیتاہے وہ یہ ہے کہ پہلے تو محمدی لوگ ایک مدت دراز تک اپنی ظاہری شریعت اورجسمانی قواعد اوربے اصل قصص اور لفظی ولایعنی بحث طالب حق کو بتلاتے ہیں بعد اُس کے ایک فریب کی رسی اُس کے پیر میں باندھ کر بٹھلانیکے لئے یوں کہتے ہیں کہ یہ جوتم نے سیکھا یہ احکام ظاہری اورعلم سفینہ تھا اگر حقیقت دریافت کیا چاہتے ہو اورخدا کی معرفت حاصل کرنا منظورہے تو فقراا واولیا کے پاس جاؤ وسالہاسال اُنکی خدمت کرواُن کے پاس علم سینہ ہے جوسینہ بسینہ محمد صاحب سے وہ علم فقراء میں چلا آیا ہے اوروہی علم سینہ زندگی کا پھل ہے۔
اسی جال میں میں بھی پھنس گیا اورمجھے ڈاکٹروزیر خان نے جو سب اسٹنٹ سرجن مقرر ہوکر اکبرآباد آئے تھے اوربڑے متعصب مسلمان تھے بلکہ آپ کو اولیاء اللہ میں سے خیال کرتے تھے دھوکاکھاکر اس بلا میں پھنسایا۔اس علم سینہ کو تصوف کہتے ہیں اور بڑے بڑے دفترکتابوں کے محمدی عالموں نے اس علم میں قرآن حدیث سے اور اپنی عقل سے اورہنود کے بیدانت اورومیوں وعیسائيوں اوریہودیوں ومجوسیوں کی رسموں سے اوررہبان ومجاریب کی عادات سے انتخاب کرکے لکھ رکھی ہیں مگر اُن میں کچھ باتیں روحانی ہیں جبکہ اُن کی روحانی خواہش صرف محمد تعلیم سے پوری نہیں ہوئی اوراُن کی روح مضطرب کو اطمینان حاصل نہ ہوا تو اُنہوں نے اس قسم کی روحانی تعلیمات ہرایک جگہ سے جمع کرکے اپنی روح کو تسلی دی اگر اُن کو انجیل وتوریت اُس وقت پڑھنے کو ملتی تووہ انبیاء سابقین کے احوال سے واقف ہوتے اورسچی معرفتِ الہیٰ حاصل کرکے کبھی محمد نہ رہتے۔ اس کا بندوبست تومحمد صاحب نے پہلے ہی کردیاتھا یعنی انجیل وتوریت کے پڑھنے سے اپنی امت کو ممانعت کردی تھی چنانچہ خلیفہ عمر جب توریت کے اوراق حضرت محمد کے سامنے پڑھ رہے تھے تو وہ نہایت غصہ ہوئے اور کہا کہ کیا قرآن تمہارے واسطے کافی نہیں ہے۔پس یہی رسم آج تک محمدیوں میں جاری ہے ۔انجیل توریت نہیں پڑھتے بلکہ جس مسلمان کے ہاتھ میں یہ پاک کتاب دیکھتے ہیں اُس کو مطعون کرتے ہیں اس کا سبب یہ ہےکہ حضرت محمد خوب جانتے تھے کہ جو کوئی اس خدا کی پاک کتاب کو پڑھے گا میرے قرآن کوہرگز پسند نہ کریگا اسی لئے تواُنہوں نے منع کیا۔ قصہ مختصر میں بھی اس علم باطنی میں پھنس گیا کم بولناکم کھانا لوگوں سے الگ رہنا جسم کودکھ دینا راتوں کو جاگنا اختیار کرلیا تمام تمام رات قرآن پڑھنے لگا قصیدہ غوثیہ کا عمل جاری کردیا چہل کاف اورحذب الجر پڑھا کرتا مراقبہ مجاہدہ کیا کرتا ذکر جہری وخفی جاری کردیا آنکھیں بند کرکے خلوت میں بیٹھ کر خیال میں لفظ اللہ دلپر لکھنے لگا بزرگوں کی قبروں پر بیٹھ کر بامید کشف قبور مراقبہ کیا کرتا وجد کی مجلسوں میں بڑے اعتقاد سے صوفیوں کا منہ تکتا ہوا بامید فیض جاکر بیٹھا کرتا مستوں مجذوبوں کے پاس خدا سے ملانیکی التجا لیکر جایا کرتا سوائے نماز پنجگانہ کے تہجد اشراق اور چاشت بھی پڑھا کرتا درود وکلمہ بہت پڑھا کرتا غرضیکہ جوجو مصیبتیں اور دکھ انسان کی طاقت کے ہیں سب اٹھائے اورانتہا درجہ تک ان مشقتوں کو پہنچادیا مگرسوائے دکھ کے اورکچھ ظاہر نہ ہوا۔ ہرگز تسلی نہ پائی ۔
اسی عرصہ میں کہ یہ سب کچھ کررہا تھا ڈاکٹر وزیر خان ومولوی محمد مظہر ودیگر بزرگوں نے مجھے اکبرآباد کی بادشاہی جامع مسجد میں بمقابلہ پادری فنڈر صاحب کے قرآن وحدیث کا وعظ کرنیکے لئے مقرر کردیا تین برس تک وعظ کرتا رہا تفسیریں اوراحادیث وغيرہ سنتا رہا مگر یہ قرآن کی آیت ہمیشہ میرے دل میں کانٹا سا چبھا کرتی تھی وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا یعنی ہر بشر ضرور ایک دفعہ دوزخ میں جائے گا خدا کے اوپر فرض ہے کہ سب کو ایک دفعہ دوزخ میں ضرور لیجائے بعداُس کے جس کو چاہے بخشے (سورہ مریم آیت ۷۱) اس آیت کے معنی میں علماء محمدیہ بڑے حیران ہورہے ہیں طرح طرح کی تاویلیں کرتے ہیں عاوہ ازیں شفاعت کے باب میں کوئی آیت قرآنی ایسی نہیں ہے جس سے کسی طرح کی امید مسلمان لوگ دل میں رکھ سکیں میں جب اس معاملہ میں سوچتا تھا توبڑی حیرانی ہوتی تھی بعض تو کہتے تھے کہ محمد صاحب شفاعت کرادینگے اوردلیل اس دعوے کی علت غائی مذہب کا ہے مسلمانوں کے پاس کوئی نہیں ہے کیونکہ قرآن میں کہیں نہیں لکھاکہ محمد صاحب تمہارے شفیع ہیں ہاں علامہ جلال الدین سیوطی نے ایک رسالہ اس باب میں لکھاہے اوراس دعوےٰ کا ثبوت احادیث سے اُس رسالہ میں دیا ہے اُس رسالہ کو پڑھ کر کچھ تسلی اپنے دل کو دیتامگر یہ نہ جانتا تھاکہ یہ احادیث ہیں ان کا اعتبار اُسی قدر ہے کہ جو اُن کا مرتبہ ہے۔
بعض کہتےہیں کہ محمد صاحب ہرگز شفاعت نہ کراسیکینگے وہ لوگ دلیلیں تو قرآن سے اچھی اچھی دیتے ہیں مگر سنی لوگ اُن کو نہیں مانتے وہابی اُن کو جانتے ہیں اوربھی طرح طرح کے بیانات شفاعت کے باب میں اہل اسلام کے فرقوں میں مذکور ہیں جن کے دیکھنے سے انسانوں شفاعت کے باب میں گھبراہٹ پیدا ہوتی ہے۔ الغرض ایسے ایسے فکروں میں زیادہ زیادہ عبادت کرکے دل کو تسلی دیا کرتا تھا خلوت میں جاکے روروکر اپنی مغفرت کی دعا کیا کرتا شاہ ابوالعلی کی قبر پر نصف رات کو چھپ چھپ کر جایا کرتا بولی علی قلندر کے مزار پر اورنظام الدین اولیا کی درگاہ میں اور اکثر بزرگوں کے مقابر میں بڑے شوق سے التجا لے کر جایا کرتا مسافر فقیروں سے اور شہر کے پاگلوں سے بموجب اعتقاد اہل تصوف کے خدا سے ملانیکی درخواست کیا کرتا ایک خیال اُسی وقت میں دنیا کے ترک کرنے کا ایسا دل میں آیا کہ میں اس کو چھوڑ چھاڑ کر جنگل کو نکل گیا کپڑے گیروکے رنگے ہوئے پہن لئے اور فقیر بن کر شہر شہر گاؤں گاؤں اِدھر اُدھر پیادہ پااکیلا بے سروسامان قریب دوہزار کو س کے پھرا کیا اگرچہ محمدی مذہب کے اعتقادات طبیعت انسانی میں سچا خلوص کبھی پیدا نہیں ہونے دیئے تاہم بہت سی نفسانی غرضوں کے ساتھ میں صرف خدا ہی کا طالب تھا ایسی حالت میں شہر قرولی کے اندرگیا وہاں ایک پہاڑ ہے اُس کے اندر ایک ندی جاری ہے اوراُس کو چولیدا کہتے ہیں میں وہاں پر حذب البحر کاعمل پورا کرنے کوبیٹھ گیا اُس وقت میرے ساتھ ایک کتاب تھی جو میرے پیر کی طرف سے مجھے ملی تھی اُس میں تصوف کی تعلیمیں اور وردوضائف کے اطوار لکھے ہیں میں اس کتاب کو سب سے زیادہ پیارا جانتا تھا یہاں کہ سفر میں رات کوساتھ لیکر سوتا اورجب میری طبیعت گھبراتی تواس کتاب کو چھاتی سے لگا کر دل کو آرام دیتا کسی کوہ وکتاب کبھی میں نے نہ دکھائی ۔ کیونکہ پیر صاحب نے منع کردیا تھا کہ اورکہا تھاکہ اس کا بھید کسی نہ کہنا کل سعادت ابدی اس میں ہے چنانچہ اب بھی وہ کتاب بیقدر میرے گھر میں ایک طاق کے اندر بیکار پڑی ہے۔ پس اُس کتاب کو میں لے کر اُس ندی پر بیٹھ گیا اورحذب البحر کا عمل بموجب شرائط کے پورا کرنے لگا مختصر حال سا کا یہ ہے کہ وہ دعا ایک جزپر ہے اُس کے پڑھنے کا طوریوں ہے کہ بے سلا کپڑا پہن کر بارہ دن تک باوضو ایک زانو ایک نشست پر نہر جاری کےکنارے بیٹھ کر بآواز بلند تیس بار ہرروز پڑھے دنیا کی کوئی چیز نہ کھائے نمک کا کھانا بھی نہ کھائے صرف جوکا آٹا حلال کی کمائی کا لاکر اپنے ہاتھ سے روٹی پکا ئے لکڑی بھی خود جنگل سےلائے جوُتا بھی نہ پہنے برہنہ پار ہے اُس کے ساتھ روز ہ بھی رکھے دن سے پہلے دریا میں غسل بھی کرے کسی آدمی کو نہ چھوئے بلکہ وقت معینہ کےسوا کسی سے بات بھی نہ کرے نتیجہ اُسکا یہ ہے کہ خدا سے وصل ہوجاتاہے اُسی لالچ میں بندہ نے یہ دکھ اٹھا یا اِسکے سوا سوالاکھ دفعہ لفظ اللہ بھی اُسی حال میں کاغذ پر لکھا ایک جزو کا غذ ہر روز لکھ ڈالتا تھا بلکہ مقراض سے ہرلفظ علیحدہ علیحدہ کترکے آٹے کی گولیوں میں لپیٹ کردریاکی مچھلیوں کو کھلاتا تھا یہ عمل بھی اُسی کتاب میں لکھا تھا دن بھر یہ کام کرتا رات کونصف شب سوتا نصف بیٹھ کر لفظ اللہ کے خیال اندر لکھ کر خیال کی آنکھ سے دیکھاکرنا اس مشقت کے بعد جب وہاں سے اٹھا تومیرے بدن میں طاقت نہ رہی رنگ زردہوگیا میں ہوا کے صدمہ سے اپن تئیں تھام نہیں سکتا تھا ۔تاج محمد خزانچی اور فضل رسول خان مصاحب راجہ قرولی نے میری بہت خدمت کی اورمیرے ہاتھ پر مرید ہوئے شہر کے اندر سے بہت سے لوگ بھی آکر مرید ہوئے روپیہ پیسا بھی مجھے بہت دیا اورنہائت تعظیم کرنے لگے میں جب تک وہاں رہا ہمیشہ گلیوں اورگھروں اور مسجدوں میں قرآن کا وعظ سنا تا رہا اوربہت لوگ گناہ سے توبہ کرتے رہے اور لوگ مجھے اولیاء اللہ میں سے خیال کرتے تھے اکثر لوگ آکر قدموں کوہاتھ لگاتے تھے لیکن میری روح نے آرام نہ پایا بلکہ دن بدن خود بخود تجربہ کاری کے سبب شریعت محمدی سے متنفر ہونے لگا وہاں سے دوسوکوس کا اورسفر کرکے وطن میں آیا یہاں آکر ورد وظائف سے طبعیت کھٹی ہوگئی اوراُس آٹھ دس برس کے عرصہ میں محمدی مذہب کے بزرگ اورمشائیخ اورمولوی اور فقراء وصلحاجوملے تھے اُنکا چال چلن اوراُن کے دل کے تصورات اوراُن کے تعصب اوراُن کے فریب یازیان وجہالتیں اور دمبازیاں جودیکھیں تھیں اُن سے یقین ہوگیا تھاکہ کہ کوئی بھی مذہب جہان میں حق نہیں ہے چنانچہ اورمحمدی عالم بھی بہت سے اسی حالت میں مبتلا ہیں پہلے یہ جانتا تھا کہ دین محمدی سارے جہاں کے دینو ں سے اچھا ہےکیونکہ دین عیسائی کوقومولوی رحمت اللہ وال سحن اور وزیر خان وغيرہ نے اپنے زعم میں باطل ثابت کردیاہے اور وہ بڑا مباحثہ جو پادری فنڈر صاحب سے علماء محمدیہ نے آگرہ میں کیا تھا میں بھی اُس میں موجود تھا اورکتاب استفسار وزالہ الاوہام اور اعجاز عیسوی جوکہ دین عیسائی کے رد میں محمدیوں نے لکھے ہیں بنظر سرسری پڑھ چکا تھا اسلئے دین عیسائي کو باطل سمجھتا تھا بلکہ ہمیشہ اپنے وعظ میں اپنے شاگرد وں ک واس دین کے نقصان دکھلایاکرتا تا چنانچہ ایک دفعہ اکبر آباد کی جامع مسجد میں جبکہ میں وعظ کرتا تھا ڈاکٹر ہنڈریسن صاحب انپسکٹر مدارس حلقہ میرٹھ اورمسٹر فالن صاحب انسپکٹر مدارس بہادر معہ مولوی کریم الدین صاحب کے وعظ سننے کو مسجد میں آئے اس وقت میں دین عیسائی کی مذمت میں مسلمانوں کو سنا رہا تھا اورایسا تعصب مرے اندر تھا کہ میں نے اُن حاکموں سامنے بھی آپ کونہ روکا غرض کہ دین عیسائی کا میں بڑا مخالف تھا لیکن بعد تجربہ کے دین محمدی کےلوگوں کا حال یہ کچھ ظاہر ہوا اس لئے یوں دل میں آگیا کہ سب مذہب واہیات ہیں جسم کو آرام دینا چاہئے اورسب کے ساتھ بھلائی کرنا اور صرف خدا کو اپنے دل میں ایک جاننا بہتر ہے اُنہیں خیالات بیہودہ میں چھ برس تک مبتلا رہا اورمیری عقل نے چنداصول ان تجربات گذشتہ میں سے اخذ کرکے میری روح کے سامنے ایسے پیش کردئیے تھے کہ اُنہیں پر بھروسہ کرکے چند برسکا عرصہ پوا کردیا۔
اب جو میں لاہور میں آیا اور لوگوں نے میرا حال خلاف شرع محمدی کے پایا تومجھے حکمائے مذہب کا اتہام کرنے لگے حالانکہ ابھی تک میں دین محمدی کوحق جانتا تھا اگرچہ پابند اُس کی شریعت کا نہ تھا لیکن کبھی کبھی جب مجھے اپنی موت اور خداوند کی عدالت کا دن اوراس جہان کوچھوڑجانے کا وقت یادآتا تومیری روح اپنے تئیں نہایت خوف وخطر کے مکان میں اکیلا بے بس اورلاچار عاجز کھڑا ہوا پاتی تھی اسی واسطے ایک ایسا اضطراب میرے دل میں پیدا ہوتا تھا کہ اکثرمیرے چہرہ پر زردی رہا کرتی تھی اورمیں بیقرار ہوکر بعض وقت خلوت میں جاکر خوب رویا کرتا تھا اوربعض وقت ڈاکٹروں سے کہا کرتا کہ مجھے کوئی ایسا مرض ہے کہ میرا دل بیقرار ہوکر مجھے بے اختیار کردیتا ہے شاید کبھی میں اپنے تئیں آپ نہ مارڈالوں ایسا گھبراتا ہوں جب میں خوب رولیتا ہوں تب مجھے آرام آتا ہے چنانچہ وہ لوگ مجھے کچھ کچھ دوائیں پلایا کھلایا کرتے تھے پر آرام نہ ہوتا تھا اورغصہ مجھ میں بہت ہوتا تھا۔
القصہ لاہور میں آکر جبکہ مسٹر میگن تاش صاحب ہیڈ ماسٹر نارمل اسکول لاہور کی خدمت میں جوکہ دیندار فاضل ہیں رہنا ہوا اوراُدھر سے مولوی صفدر علی صاحب کے عیسائی ہونے کی خبر جبپلور سے آئی تو میں نے بڑا تعجب کیا چند روز تک تومولوی صفدر علی صاحب کوبُرا کہتا پھرا اور طرح بہ طرح کے بدخیالات اُنکی نسبت مرے دل میں آتے رہے لیکن بارباریہ خیال بھی آتا تھاکہ مولوی صفدر علی جو سچا راست باز تھا اُس نے یہ کیا کام کیا کہ محمدی مذہب کو چھوڑ یا ایسا کیوں نادان ہوگیا پھر میں نے ارادہ کیا کہ مولوی صفدر علی سے بذریعہ خطوط کے مباحثہ شروع کرنا چاہیے مگر بڑی ایمانداری اوربے تعصب ہوکر یہ کام میں کرونگا الغرض اسی نیت سے انجیل وتوریت منگوائی اور اعجاز عیسوی واستفسار وازالہ اوہام وغيرہ کتب مباحثہ جمع کئے اورمیگن تاش صاحب سے کہا کہ آپ براہ مہربانی مجھے انجیل کو سمجھا کر پڑھادیں اورمیں خوب تحقیقات کرونگااُنہوں نے بڑی خوشی سے پڑھنا شروع کردیا۔ متی کے ساتویں باب تک پڑھا تومجھے دین محمدی پر شک پڑگیا پھر توایسی بیقراری پیداہوئی کہ سارے دن اور اکثر تمام رات کتب کا مطالعہ شروع کردیا اورپادریوں ومحمدیوں سے زبانی بھی باتیں کرنے لگا ایک برس کے اندرات دن کی محنت سے تحقیقات کرکے دریافت کرلیا کہ دین محمدی خدا کی طرف سے نہیں ہے مسلمان دھوکے میں پڑے ہیں صرف دین عیسائی سے نجات ہے جبکہ میں نے یہ معلوم کرلیا تب محمدی عالموں سے جو میرے دوست اور لواحق ہیں سب حال بیان کیا بعض تو خفا ہوئے اور بعض نے سب میرے دلایل خلوت میں بیٹھ کر سنے میں نے اُن سے کہا کہ یا توان دلائل کے جواب شانی دوورنہ تم بھی میرے ساتھ عیسائی ہوجاؤاُنہوں نے صاف کہہ دیا کہ ہم جانتےہیں کہ دین محمدی حق نہیں ہے لیکن کیا کریں دنیاوی خوف اورجاہلوں کے لعن طعن سےہم کو ڈر معلوم ہوتا ہے دل میں توہم ضرور مسیح کو سچا جانتے ہیں اوریہ بھی ہم جانتے ہیں کہ محمد صاحب شفیع المنذبین نہیں ہوسکتے مگرہم اپنی دنیاوی عزت کھونا نہیں چاہتے تم بھی اپنا اعتقاد ظاہر نہ کرو ظاہر میں مسلمان کہلاؤ دل میں مسیح پر اعتقاد رکھو اور بعضوں نےکہا مسیح کا مذہب تودرست اورموافق عقل کے ہے مگر تثلیث اورابن اللہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا اس لئے ہم اسکو اختیار نہیں کرتے اور بعضوں نے کہا کہ ہم کو بعضی جسمانی رسمیں عیسائیوں کی پسند نہیں آتیں اسلئے ہم عیسائی نہیں ہوتے ۔
پس ان کی ایمانداری بھی ان کی تقریروں سے مجھ پر ظاہر ہوگئی اس لئے میں نے ان سب کو خدا کے سپر د کیا اور اُن کے حق میں سوا ء دعا کے اورکچھ چارہ نہ جانا اورآپ امرتسر میں جاکر قسیس رابرٹ کلارک صاحب کے ہاتھ سے چرچ مشن میں بپتسمہ لیا اوراُن کی خدمت میں جاکر اصطباغ لینے کا بڑا سبب یہ ہوا کہ سب پادریوں سے پہلے کلارک صاحب نے بذریعہ خط کے خداوند کا پیغام میرے پاس لاہور میں بھیج دیا تھا اسلئے اُن کے ہاتھ سے اصطباغ لینا میں نے مناسب سمجھا اوراُن کی دینداری اورسرگرمی سے بھی میں بہت خوش ہوا بعد اس کے ایک کتاب جس کا نام تحقیق الایمان ہے میں اُن مولویوں کے واسطے لکھدی جو کہ دین محمدی پر بھروسہ کئے بے فکر بیٹھے ہیں اوراب ایک اورکتاب جس کی نہایت ضرورت ہے خداوند سے مددمانگ کر تیارکررہا ہوں جیسا میرا منشا ہے اگر اُس کے موافق مدد الہٰی سے وہ کتاب تیار ہوگئی تو خداوند کا جلال ظاہر کرنے کو اُمید ہے کہ بہت مفید ہو اوراب میں لاہور میں رہتاہوں۔
پادری فورمن صاحب وپادری گروداس صاحب سے مجھے دین کا بہت بڑا فائدہ حاصل ہوتاہے اُن کی صحبت سے اُن کے گرجا میں جاکر فیضیاب ہوتا ہوں پادری نیوٹن صاحب سے بھی مجھے بہت فیض ہوا بہت سی مشکلات دینی اُن کے ذریعہ سے حل ہوگئیں جب سے خداوند عیسیٰ مسیح کے فضل میں داخل ہوا ہوں میری روح کو بہت آرام ہے وہ اضطراب اوربے قراری بالکل جاتی رہی وہ چہرہ کی زردی بھی زائل ہوگئی اب کسی وقت میرا دل نہیں گھبراتا کلامِ الہیٰ کےپڑھنے سے لذت زندگی حاصل ہوتی ہے موت اورگور کے خوف کی مرض سے بہت تخفیف ہے اپنے خداوند میں بہت ہی خوش ہوں اُس کے فضل میں رو ح ہر وقت ترقی کرتی ہے خداوند دل کو آرام دیتا ہے دوست آشنا شاگرد ومرید رشتہ دار وغیرہ سب دشمن ہوگئے ہیں ہر کوئی ہر وقت ہر طرح سے دکھ دینا چاہتے ہیں مگر میں خداوند سے تسلی پاکر کچھ پرواہ نہیں کرتا کیونکہ جس قدر بے عزتی اوردکھ خداوند کیلئے ملتاہے اُسی قدر روح کو آرام اورتسلی اورخوشی پیدا کرتاہے رشتہ داروں میں سے صرف بھائی مولوی کریم الدین صاحب اور بھائی منشی خیرالدین صاحب اور برادر محمد حسین کرانی والا اور والد ماجد صاحب خط کتابت اور محبت رکھتے ہیں اُن کے سوا سب خاندان اورسب دوست وغيرہ برگشتہ ہوگئے اس لئے سبھوں کیلئے دعا کرتاہوں خداوند اُن پر فضل کرے اُن کے دل کی آنکھیں کھولدے تاکہ وہ بھی ہمارے خداوند کی نجات ابدی میں شامل ہوں ہمارے خداوند عیسیٰ مسیح کے فضل سے آمین۔
تمام شد
ضمیمہ
واقعاتِ عمادیہ کی طبع دوم کا
1866ء میں واقعات عمادیہ لکھا گیا اوریہ ضمیمہ 1873ء میں لکھا جاتاہے میرے عیسائی ہونے کے بعد اس سات برس کے عرصہ میں جوجوباتیں مجھ پر واقع ہوئی ہیں اُن کیلئے خدا کا نہایت شکرگزارہوں۔
پہلا فضل خدا کا مجھ پر یہ ہوا کہ میری بیوی جومیرے بپتسمہ کےوقت مجھ سے بہت ناراض تھی اورمیں اپنے گمان میں اُس کو معہ بچوں کے مسیح کی خاطر چھوڑنے پر بھی بہ مجبوری راضی تھا وہ بھی مسیح سے کچھ واقف ہوکر عیسائی ہوگئی اورمیرے پانچوں بیٹوں اور چاروں بیٹیوں نے بھی بپتسمہ پایا پرایک بیٹا حمیدالدین خدا کے پاس چلا گیا باقی سب مسیح کے بندے ہوکر میرے ساتھ اب دنیا میں موجود ہیں۔
والد ماجد نے بھی عالم بیہوشی میں لڑکوں کے ساتھ بپتسمہ پایا تھا پر موت کے وقت مسلمان رشتہ داروں نے اُن کا نام مسلمان رکھ لیا اُنہیں تو اُس وقت کچھ ہوش نہ تھا عمردار یکے سبب عقل جاتی رہی ہے پر میری اُمید ہے کہ خدا تعالیٰ جونہایت مہربان ہے اورجس نے اُنہیں اس بشارت کے سننے تک زندہ رکھا اُن کی جان بھی بچالیگا اگرچہ مسلمانوں نے اپنے طورپر دفن توکیاہے۔ باقی بھائی مولوی کریم الدین صاحب آج تک اُسی حالت سابقہ میں رہتے ہیں وہ ابتک مسیح کے پاس نہیں آئے پر اورسب رشتہ دار مرگئے ہیں۔ ہاں بعض اوردوستوں نے بھی خدا کے کلام پر فکر کیا اور کئی ایک عیسائی بھی ہوگئے۔
دوسرا فضل خدا کا مجھ پر یہ ہوا کہ اُس نے مجھے اپنے کلام کی خدمت کےلئے دنیاوی کاروبار سے الگ کرلیا اگرچہ میں نالائق ہوں اوراپنا واجب ادانہیں کرسکتا توبھی اُس نےضرور فضل کیا اور وہی مجھے آخر تک سنبھالے گا۔

ان کی تصانیف



واپس جائیں