islam

میرا وطن اور جائے پیدائش
میرا وطنِ مولوف جس پر مجھ کو بہت ناز ہے افغانستان جنت نشان ہے۔ میرے والد مرحوم علاقہ گولر کے صدر یعنی دارلخلافہ کے باشندہ تھے جو کہ دارالسطنت کابل سے بیس پچیس کوس جانب جنوب میں واقع ہے۔میں1884میں پیدا ہوا۔
اپنے والدین کا مختصربیان
میرے والد مرحوم کا نام پایندہ خان تھا۔ فوجی عہدے کے اعتبار سے کرنیل تھے اور ان کا خطاب بہادر خان تھا لیکن سرزمین افغانستان میں اس طرح مشہور تھے
“بہادر خان کرنیل ماماہ محمد خان جرنیل”
میرے والد کی دوبیویاں تھیں۔ پہلی بیوی میرے والد کے قریبی رشتہ دار وں میں سے تھیں۔ ان سے بجز تین لڑکیوں کے کوئی فرزند نرینہ پیدا نہ ہوا۔ پس بدیں خیال کہ نسل منقطع نہ ہوجائے ان کی سید محمود آقا کی لڑکی سے سیادت وامارت کے لحاظ سے خطہ ،کابل کے چند معروف اشخاص میں تھے شادی ہوئی ۔ اس کے بطن سے میں اور میرا چھوٹا بھائی تاج محمد خان پیدا ہوئے۔
امیرعبدالرحمن خان مرحوم جب روس سے آکر تخت کابل پر متمکن ہوئے توکچھ عرصہ کے بعد میرے والد مرحوم اور محمد جان خان غازی اور فیض محمد خان جرنیل وغیرہ چھ ایوسربر آوردو اشخاص کو جو افغانستان کے رکن رکین اور مائہ ناز اور ایک
ہی خاندان کے تھے گرفتار کرواکر ایک نامعلوم مقام میں پہنچوا کر سب کو قتل کرودایا۔
ایک اور آفت یہ آئی کہ میرے دو ماموں صاحبان سید خداداد آقا وسید مقصود آقا جو کہ شہزادہ سردار ایوب خان کے ساتھ قندھار میں تھے شہزادہ موصوف کے شکست پانے کے بعد گرفتار ہوکر پابجوالا ں کابل بھیج دیئے گئے ۔ چونکہ امیر شیر علی خان مرحوم صاحبزادے سردار ابراہیم خان،سردار ایوب خان اور سردار یعقوب خان ہندوستان میں سلطنت انگلشیہ کی پناہ میں آئے تھے اس لئے میرے دو قیدی ماموں صاحبان کو بھی امیر عبدالرحمن خان مرحوم نے ہندوستان کی طرف جلا وطن کردیا ۔ اس کے کچھ عرصے بعد میرے تیسرے ماموں صاحب سید احمد شاہ آقا جو ان سے چھوٹے تھے والد ہ اور ملازمین کے ہمراہ امیر عبدالرحمن کی اجازت سے ہندوستان میں آگئے ۔ لیکن باقی تمام اعزا واقارب کابل میں مقیم رہے۔
ہندوستان آنے کے بعد میری ماموں صاحب سردار ابراہیم خان کے ہمراہ حس ابدال ضلع اٹک میں مقیم ہوئے ۔ لیکن چند سال کے بعد امیر عبدالرحمن خان مرحوم اور سردار ابراہیم خان کے درمیان مصالحت ہوگئی اور ہمارے کل خاندان کو واپس کابل آنے کی اجازت مل گئی۔ سو بجز میرے اور میرے تین ماموں صاحبان کے سب کے سب اپنے ملک کو رجعت کرگئے۔
میرا اپنے ماموں صاحبان سے جدا ہونا

کچھ عرصے بعد میں اپنے ماموں صاحبان کے گھر کو خیر باد کہہ کر پشاور گیا اور امیر عبدالرحمن خان مرحوم کے حضور میں اس مطلب کی ایک عرضی بھیجی کہ مجھ کو کابل آنے کی اجازت دی جائے۔ امیر مرحوم نے جواب دیا کہ بغیر ضمانت دئیے تم نہیں آسکتے ۔ لہذا مایوس ہوکر یار قند کے راستہ سے بخارا جانے کا قصد کیا کیونکہ میرے والد اور دیگر نامی گرامی اشخاص کے قتل کے بعد میرے بہنوئی صاحب اس وقت کابل سے بھاگ کر بخارا میں رہنے لگے تھے۔
جب میں کشمیر پہنچا تو موسم سردی کا شروع تھا اور سفر خطرناک ہوگیا تھا۔ پس وہاں سے ہندوستان کا رخ کیا۔
دہلی پہنچ کر مدرسہ فتح پوری میں عربی کی تکمیل کی غرض سے داخل ہوا۔
مسیحیوں کے ساتھ میرا پہلا مباحثہ
دہلی پہنچ کر مدرسہ فتح پوری میں عربی کی تکمیل کی غرض سے داخل ہوا۔
ان ہی ایام میں ایک روز میں اپنے دوستوں کے ساتھ چاندنی چوک کی سیر کرکے مدرسہ کی طرف واپس آرہا تھا کہ مدرسہ سے کچھ فاصلے پر بہت بھیڑ لگی دیکھی ۔ بھیڑ کو دیکھ کر ہم بھی روانہ ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک مسیحی مناد تثلیث پر قرآن شریف کی اس آیت سے استدلال کررہا تھا “ونحن اقرب الیہ من حبل الورید” اور کہتا تھا کہ “نحن “ضمیر جمع متکلم ہے جس کے معنی ہیں “ہم ” پس اگر خدا واحد مطلق ہوتا تو “ہم ” نہ کہتا بلکہ “انا “یعنی “میں ” کہتا۔ طالب علم کچھ مہمل سا جواب دے رہا تھا ۔ میرے دوستوں نے مجھ کو جواب دینے کا اشارہ کیا۔ آگے بڑھ کر میں نے کہا “نحن ” اس مقام پر محاورہ ء عرب کے مطابق صرف تعظیم وتحسین کلام کے لئے استعمال ہوا ہے۔ میری زندگی میں مسیحیوں کے ساتھ بحث کرنے کا یہ پہلا موقع تھا۔ اسی دن سے میرے دل میں مسیحیوں کے ساتھ مباحثہ کرنے کا اس قدر شوق پیدا ہوا جس کا بیان نہیں کرسکتا ۔ یہ صرف شوق ہی شوق نہ تھا بلکہ حمیت وغیرت مذہبی اس کے اجزائے اولین تھے۔غرضیکہ مجھ سے جہاں تک ہوسکا میں نے ان مشہور ومعروف کتابوں کو جو مسیحیوں کے رد میں لکھی گئی ہیں جمع کرنا شروع کیا۔ مولوی رحمت الله صاحب کی اظہار الحق اور اعجاز عیسوی جو اس فن میں سب سے زیادہ مشہور کتابیں ہیں۔
مجھ کو بائبل مل گئی
ایک دن ایک انگریز پادری صاحب نے جو منادوں کے ساتھ آیا کرتےتھے مجھ کو اپنا وزٹنگ کارڈدے کر اپنے بنگلہ پر مدعو کیا۔ اور مجھے اپنے دوستوں کو بھی ہمراہ لانے کی اجازت دی۔ چنانچہ میں اپنے تین دوستوں کو ساتھ لے کر پادری صاحب موصوف کے بنگلہ پر گیا۔ پادری صاحب نہائت تپاک اور خلق کے ساتھ پیش آئے ۔ چائے پیتے وقت ایک دلچسپ مذہبی گفتگو چھڑگئی ۔ پادری صاحب نے مجھ سے مخاطب ہوکر کہا “آپ بائبل پڑھتے ہیں”؟
میں نے کہا “میں بائبل کو پڑھ کر کیا کرونگا ۔ ایسی محرف کتاب کو کون پڑھے گا جس کو آپ لوگ ہر سال بدلتے رہتے ہیں”؟
میرے اس جواب پر پادری صاحب کے بشرہ سے افسوس کے آثار ظاہر ہوئے اور ایک دزدیدہ تبسم کے ساتھ کہنے لگے “کیا ہم مسیحی لوگ سب کے سب بے ایمان ہیں یا خدا سے نہیں ڈرتے جو خدا کے کلام ِ پاک میں تبدیلی کرتے اور دنیا کو دھوکہ دیتے ہیں؟جب مسلمان لوگ یہ کہتے ہیں کہ مسیحی تورات وانجیل شریف میں تحریف کرتے ہیں تو اس کا یہ مطلب ہے کہ کل مسیحی لوگ بے ایمان اور لوگوں کو گمراہ کرنے والے ہیں ۔ پس مسلمانوں کا یہ دعویٰ کہ پاک کلام محرف ہے سراسر غلط اور باطل ہے اور میں جانتا ہو ں کہ اس قسم کا دعویٰ ان مسلمانوں کا ہے جو بائبل مقدس اور مسیحیوں کے عقیدے اور ایمان سے ناواقف ہیں۔
یہ کہہ کر پادری صاحب نے مجھ کو دوجلدیں بائبل کی ایک فارسی اور دوسری عربی زبان میں دیں اور تاکید کرکے کہا کہ آپ ان کو ضرور پڑھیں ۔ چنانچہ ان کا شکریہ ادا کرکے ہم وہاں سے رحضت ہوئے۔
میرا بائبل پڑھنے کا طریقہ
میں اس غرض اور نیت سے بائبل پڑھا کرتا تھا کہ جس سے مسیحیوں اور خود بائبل پر اعتراض اور نکتہ چینی کرسکوں۔ نہ ہی میں بائبل مقدس کو سلسلہ وار پڑھتا تھا بلکہ ان ہی مقامات کوجن کا حوالہ مسلمان مباحثین اپنی اپنی تصانیف میں دیتے تھے۔
میرا بمبئی کی طرف چلاجانا
قصہ کوتاہ جب تک دہلی میں رہا مسیحیوں کے ساتھ مباحثہ کا معرکہ گرم رہا۔ اسی عرصہ میں میں نے بمبئی جانے کا قصد کیا۔مجھ کو وہاں جناب مولوی ہدائت الله صاحب سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ مولوی صاحب بمبئی میں کیا عزت اور کیا علمیت اورکیا وجاہت کے لحاظ سے آفتاب کی طرح مشہور تھے۔
میرا مدرسہ زکریا میں داخل ہونا
انہی ایام میں مصر سے ایک اور زبردست عالم جو منطق اور فلسفہ میں ماہر تھے آکر مدرسہ زکریا میں مدرس مقرر ہوئے۔ آپ کا نام مولوی عبدالاحد صاحب تھا اور افغانستان کے صوبہ جلال آباد کے باشندہ تھے۔ جب آپکی شہرت ہوئی تو میں بھی مدرسہ زکریا میں داخل ہوکر آپ سے منطق اور فلسفہ کی انتہائی کتابیں پڑھنے لگا۔ آپ مجھ سے بے حد پدرانہ نظر ِ شفقت رکھتے تھے ۔ آپ نے اپنے کمرے کے پاس ہی مجھ کو ایک کمرہ دیا تاکہ ہر وقت میں آپ سے مدد لے سکوں۔
بمبئی میں مسیحیوں کے ساتھ میرا مباحثہ
ایک دن میں اور مدرسہ کے چند طالب علم سیر کرتے کرتے دھوبی تالاب پہنچ گئے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ چند مسیحی مناد وعظ کررہے ہیں۔ ان کو دیکھتے ہی میرا پرانازخم پھر تازہ ہوگیا اور دہلی کا نقشہ آنکھوں کے سامنے پھر نے لگا ۔ میں آگے بڑھنے ہی کو تھا کہ ایک طالب علم نے مجھ سے کہا “مولوی صاب جانے بھی دیجئے ان لوگوں سے بحث کرنا اپنے وقت کو ضائع کرنا ہے۔یہ بیچارے نہ بحث کرنا جانتے ہیں اور نہ آداب مباحثہ سے واقف ہوتے ہیں۔ ان کو اسی بات کی تنخواہ ملتی ہے سو اپنا فرض ادا کرتے ہیں ۔ پس ان سے مباحثہ کرنے میں بجز نقصان کے فائدہ کچھ بھی نہیں ۔”
میں نے کہا ” آپ نہیں جانتے ہیں پر میں ان لوگوں سے خوب واقف ہوں اگر چہ یہ لوگ مباحثہ اور مباحثہ کے آداب نہیں جانتے ۔ لیکن لوگوں کو گمراہ کرنے کے طریقے خوب جانتے ہیں۔ پس ہر ایک مسلمان پر فرض ہے کہ ان کے مکر اور فریب کے جال سے بھولے بھٹکے مسلمانوں کو بچائے۔” یہ کہہ کر میں آگے ہوا اور اعتراض پر اعتراض کرنا شروع کیا۔ اس طر ف سے بھی اعتراضوں کی بوچھاڑ ہونے لگی ۔ بہت دیر تک سلسلہ جاری رہا ۔ لیکن وقت نہ ہونے کی سبب اس روز بحث بند ہوگئی۔
مدرسہ کے طلبا میں اس بات کا خوب چرچا ہوا اور ان میں بھی مباحثہ کا شوق پیدا ہونے لگا ۔ ہفتہ میں دوبار بلاناغہ مسیحیوں سے مباحثہ کرتے تھے۔ جب پادری صاحبان نے دیکھا کہ ہم بلاناغہ مباحثہ کے لیے آیا کرتے ہیں تو چرچ مشنری سوسائٹی کے دومشنری صاحبان نے جن میں سے ایک کا نام پادری ایلن سمتھ صاحب تھا جوزف بہاری لعل صاحب کی معرفت جو ہیڈ کیٹی کسٹ تھے اپنے بنگلہ میں ہماری دعوت ک اور اثنائے گفتگومیں کہنے لگے کہ ” دھوبی تالاب بہت دور ہے اور آنے جانے میں آپ لوگوں کو بہت تکلیف ہوتی ہوگی ۔ اگر آپ سچ مچ تحقیق کرنا چاہتے ہیں تو ہم آپ لوگوں کے قریب ایک کتب خانہ کھول دیں گے جس میں ہفتہ میں ایک بار شام سے لے کر جب تک آپ چاہیں مذہبی باتوں پر بحث کری۔”میں نے شکریہ کے ساتھ ان کی اس رائے کو منظور کیا۔ چنانچہ انہوں نے پاؤڈھولی میں جو ہمارے مدرسہ کے بہت ہی قریب تھی ایک کتب خانہ کھول دیا اور ہم بوقت مقررہ پہنچا کرتے تھے۔
میرا ندوة المتکلمین کا جاری کرنا
جب میں نے دیکھا کہ ہمارے مدرسہ کے طلبہ اور باہر کے رفقاء مسیحی مذہب سے ناواقف ہیں اور فن تقریر میں ناتجربہ کار ہیں تو جناب مولوی عباس خان صاحب کے مشورے سے ایک علیحدہ مکان کرایہ پر لے کر ایک انجمن بنام ندوة المتکلمین جاری کی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ مخالفین ِ اسلام اور خاص کر مسیحیوں کے ساتھ مباحثہ کرنے کے لیے مباحثین تیار کئے جائیں۔
میرے استاد کا مجھ پر ناراض ہونا
جب میرے استاد نے یہ دیکھا کہ میں بحث مباحثہ میں شب وروز مستغرق رہا کرتا ہوں اور بجز اس کے اور کچھ فکر ہی نہیں تو ایک رات بعد نماز عشاء میرے کمرے میں تشریف لائے۔ میں اس وقت انجیل کا مطالعہ کررہا تھا۔ مجھ سے فارسی میں پوچھنے لگے “بدست چہ کتاب است ؟”ترجمہ : تمارے ہاتھ میں کونسی کتاب ہے؟
میں نے کہا “انجیل است ” ترجمہ :انجیل ہے ۔اس پر چیں بہ جیں ہوکر فرمانے لگے “میترسم کہ عیسائی نشوی “ترجمہ : مجھ کو ڈر ہے کہ کہیں تم مسیحی نہ ہوجا ؤ۔اس جملہ کو سن کر میں سخت بیتاب ہوگیا۔ اگر چہ میں ادب کے لحاظ سے کچھ نہ کہنا چاہتا تھا تو بھی میرے منہ سے نکل ہی گیاکہ ” چہ طور عیسائی میشوم ؟خواندان انجیل کے را عیسائی میسازد ؟من انجیل میخوانم تاکہ بیخ عیسائیاں رابکنم نہ کہ خود را عیسائی بسازم باید کہ مرا آفرین بادشا باشی ہا بد ہید کہ دلم رابکشا یند وحوصلہ ام راپست کنید”
ترجمہ : میں کس طرح مسیحی ہوجاؤں گا ؟ کیا انجیل پڑھنے سے کوئی مسیحی ہوجاتا ہے؟ میں انجیل اس لئے پڑھتا ہوں کہ مسیحیوں کی جڑ اکھیڑ دو ں نہ کہ خود مسیحی ہوجاؤں مناسب تھا کہ آپ میری تعریف کرتے تو میرا دل بڑھاتے نہ کہ میرا دل توڑتے یا میرا حوصلہ پست کرتے ۔
اس پر آپ نے کہا ” من ازیں جہت گفتم کہ شنفتہ ام کسے کہ انجیل میخواند نصرانی میگر دو ونہ شنفتہ کہ شاعر میگوید:
یا من اذ اقراء الانجیل ظل بہ قلب الحنیف عن الاسلام منصرنا
ترجمہ: یہ میں نے اس لئے کہا کہ میں نے سنا ہےکہ جوشخص انجیل پڑھتا ہے وہ مسیحی ہوجاتا ہے ۔کیا تم نے نہیں سنا جو ایک شاعر نے کہا کہ ” جب تو انجیل پڑھتا ہے تو مسلمانوں کا دل اسلام سے پھر جاتا ہے ”
میں نے کہا ” ہر کہ گفتہ است ۔بد گفتہ است ”
خیر مجھے کچھ مزید نصحیت کرکے مولوی صاحب اپنے کمرہ کو واپس چلے گئے۔ غرضیکہ کوئی پانچ چھ سال تک یہ دلچسپ اور روحانی جنگ جاری رہی ہوگی۔
میرا مکہ ومدینہ جانا

مجھے یکا یک حج کا ادا کرنے کا شوق آیا اور فی الفور سارا انتظام کرکے شاہ نور پر سوار ہوکر جدہ اور جدہ سے مکہ پہنچ گیا اور مکہ سے جناب مولوی حسام الدین صاحب مرحوم کشف الحقائق بمبئی کے ساتھ خط وکتابت کرتا رہا ۔ جب حج کا دن آپہنچا تو احرام(احرام اس سفید چادر اور تہ بند کو کہتے ہیں جس کو خاص حج کے دن اور اپنے اپنے میقانوں میں پہنتے ہیں(سلطان محمد پال ))باندھ کر عرفات گیا۔ عرفات کا دن عجیب دلچسپ نظارہ کا دن ہوتا ہے۔ امیرو غریب ، شریف اور وضیع سب کے سب ایک ہی سفید چادر اور تہ بند میں لپٹے ہوئے ننگے سر اور ننگے پاؤں یو ں معلوم ہوتے تھے کہ قیامت کا دن ہے اور سب مردے اپنے اپنےکفنوں سمیت قبروں سے اپنے اعمال کا حساب کتاب دینے کے لئے نکلے ہیں ۔ میری دونوں آنکھوں سے آنسو جاری تھے مگر ساتھ ہی یہ خیال پیدا ہوا کہ ” اگر اسلام سچا مذہب نہیں ہے تو قیامت میں میری کیا حالت ہوگی؟اسی وقت میں نے خدا سے یوں دعا مانگی کہ “الہٰی تو اپنا سچا مذہب اور سچا راستہ مجھے بتلا۔ اگر اسلام سچا مذہب ہے تو مجھ کو اس پر قائم رکھ اور مجھ کو توفیق دے کہ اسلام کے مخالفین کے منہ بند کرسکوں اور اگر مسیحی مذہب سچا ہے تو تو اس کی سچائی مجھ پر ظاہر کر ۔آمین ۔”
میری واپسی
مدینہ کی مختصر زیارت کی بعد میں بمبئ واپس آیا۔ میری اس غیر حاضری کے زمانہ میں ندوة المتکلمین بند ہوگیا تھا۔ اس لئے واپس آکر سب سے پہلا کام جو میں نے کیا یہ تھا کہ ندوة المتکلمین کے عوض ایک اور انجمن بنام ضیاء الاسلام جاری کی۔ اس انجمن کا صدر میں تھا اور سیکر ٹری عبدالروف صاحب تھے۔
انجمن ضیاء الاسلام کا جاری کرنا
عبدالرؤف صاحب کے مکان پر ہی جو گرینڈ روڈ کے قریب واقع تھا اس کے اجلاس ہوا کرتے تھے ۔ اس کے قوانین میں سے ایک قانون یہ تھا کہ مخالفین ِ اسلام میں سے ہفتہ میں سے ایک بار ایک شخص کو دعوت دیں کہ وہ آکر اسلام کے خلاف لیکچر دے اور ہم میں سے کوئی صاحب جس کو صدر چنے اس کو جواب دے۔
مسیحیوں کی طرف سے منشی منصور مسیح صاحب جو ایس ۔پی ۔جی ۔مشن کے ہیڈ کیٹی کسٹ تھے اور قریب رہتے تھے بلاناغہ آکر اسلام کے خلاف لیکچر دیتے تھے۔ اسی طرح آریوں کی طرف سے بھی کوئی نہ کوئی صاحب تشریف لاتے تھے۔
منشی منصور مسیح صاحب سے میرا مباحثہ
ایک روز منشی منصور مسیح صاحب نے ہماری انجمن میں اس موضوع پر کہ ” اسلام میں نجات نہیں ہے ” ایک زبردست لیکچر دیا ۔ انجمن کے اراکین نے مجھے کہا کہ میں جواب دوں۔میں جواب دینے کے لیے کھڑا ہوا اور اپنے علم کے زور سے یہ ثابت کرنا چاہا کہ اسلام میں پوری اور کامل نجات ہے لیکن میں سچ کہتا ہوں کہ اگر چہ سامعین نے میرے لیکچر کی داد دی اور چاروں طرف سے واہ واہ ہونے لگی لیکن خود مجھ کو میرے دلائل سے اطمینان نہ تھا۔ میں دوران لیکچر اپنی کمزوری کی خود محسوس کررہا تھا۔ اگر چہ میری آواز کے سامنے منصور مسیح صاحب کی آواز دھیمی ہوگئی تھی۔ لیکن میرے دل میں ان کی آواز اس زور وشور سے گونج رہی تھی جس کا بیان میں نہیں کرسکتا ۔
اسلام میں نجات نہیں
سب سے زیادہ عمیق اور قابل غور بات جو اب تک باقی تھی وہ قرآن شریف اور مستند وصحیح احادیث کی تحقیق وتفتیش تھی۔ پیشتر اس کے کہ میں نجات کی تلاش کرتا خدا کے سامنے اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھا کر یو ں دعا کی :
“الہٰی تو جانتا ہے کہ میں مسلمان ہو ں اور مسلمان پیدا ہوا ہوں۔ میرے آباؤاجداد سینکڑوں پشتوں سے اسی مذہب میں پیدا ہوئے اور اسی میں فوت ہوئے۔ اسی میں میں نے تعلیم وتربیت پائی اور اسی میں میری پرورش ہوئی۔ پس تو ان تمام باتوں کو جو تیری سچی راہ کی تحقیق کرنے سے مجھے روکتی ہیں ایک مجھ سے دور کر تو اپنی نجات کا راستہ مجھ کو بتا تاکہ جب میں اس دا ر فانی سے چل بسوں تو تیرے آگے قابل نفرین نہ ٹھہروں ۔ آمین ۔”
قرآن شریف کا مطالعہ کرنے سے جو بات مجھ کو اس سے قبل معلوم تھی وہی بات اب بھی ثابت ہوئی یعنی یہ کہ نجات کا ملنا صرف اعمال ِ صالح پر موقوف ہے۔
فَمنَ يَعمَل مِثقَالَ ذَرَةٍ خَيراًيَرَہ۔وَمَنی یَعَمل مِثقَالَ ذَرَةٍ شَراً يَرَہ
(سورة الزلزال آیت 7اور8)۔
ترجمہ: پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا۔اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا۔(ترجمہ قرآن شریف مولانا محمد جونا گڑھی نئی دہلی )۔
اس قسم کی آیات کو پڑھ کر جو بادی النظر میں مرغوب اور تسلی بخش معلوم ہوتی ہیں میرے دل میں یہ سوال پیدا ہوا کہ ” کیا یہ ممکن ہے کہ ہم سے نیکی ہی سرذد ہوتی جائے اور کسی قسم کی بدی ہم سے سرذد نہ ہو؟ کیا انسان میں ایسی طاقت ہے؟”
جب بہ نظر امعان وتدفین اس سوال پر غور وخوص کیا اور ساتھ ہی اس کے انسانی قوی اور جذبات کا اندازہ کیا تو معلوم ہوا کہ انسان کے لئے سراسر معصوم رہنا نا ممکن ہے۔
آخر اسی ضمن میں میرے دل میں یہ سوال پیدا ہوا کہ آخر حضرت عیسی ٰ  بھی تو انسان ہیں ۔ جہا ں قرآن شریف میں اور انبیاء کے گناہ کا ذکر ہے حضرت عیسیٰ کے گناہ کا ذکر کیو ں مرقوم نہیں؟
چونکہ قرآن شریف میں حضرت عیسی ٰ  کی معصومیت کے سوا اور کسی بات کا ذکر نہیں ملا۔ اس لئے میں نے انجیل شریف کی طرف رجوع کیا اور ذیل کی آیات مل گئیں۔
(1) تم میں کون مجھ پر گناہ ثابت کرتا ہے ؟
(انجیل شریف بہ مطابق راوی حضرت یوحنا  رکوع 8 آیت 42)
(2) کیونکہ ہمارا ایسا سردار کاہن ( یعنی امام اعظم ) نہیں جو ہماری کمزوری میں ہمارا ہمدرد نہ ہوسکے بلکہ وہ سب باتوں میں ہماری طرح آزما ئے گئے تو بھی بے گناہ رہے(انجیل شریف خطِ عبرانیوں رکوع 4آیت 51)۔
پس کافی اور شافی دلائل سے ثابت ہوا کہ بجز حضرت عیسیٰ سلام وعلینہ کے اور سب بنی نوع انسان درحقیقت گنہگار ہیں۔ پس میں کون اور میری حقیقت کیا جو یہ کہہ سکوں کہ اعمال ِ صالح سے نجات پاسکتا ہوں جب کے بڑ ے بڑے مصلحان دین بڑے بڑے فیلسوف ،متقی اس میدان بے پایاں میں دوڑ کر ہا رگئے؟
خیر پھر بھی میں نے قرآن شریف کی طرف رجوع کیاکہ مسئلہ بالا کی نسبت قرآن شریف کی کیا تعلیم ہے ؟
قرآن شریف کی رو سے کوئی انسان نجات نہیں پاسکتا
منجملہ ان آیات کے جو اس امر کی تائید میں ہیں دو آئتیں یہاں نقل کرتا ہوں جو واقعی فیصلہ کرتی ہیں کہ کوئی فرد بشر خواہ وہ کیسی ہی حیثیت اور درجہ کا ہو نجات نہیں پاسکتا ہے۔
وَاِِن مِنکم اِلاَ وَارِدھاَکاَنَ عَلی رَبِکَ حَتماً مَقضِياً ۔ ثُمَ نُنَجِی الذَينَ اتَقَوا وَنذَ رالظِلمينَ فهِياَجِثيا(سورة مریم آیت 72 اور 73)
ً ترجمہ:یہ بات پروردگار پر واجب ہوچکی ہے کہ تم میں سے ہر ایک انسان دوزخ میں وارد ہوگا ۔ پھر ہم متقین کو دوزخ سے چھٹکارا دیں گے اور ظالموں کو گھٹنوں کے بل اس میں پڑے رہنے دیں گے ۔
اس آیت کو پڑھنے سے جس قدر خوف ،دہشت اور مایوسی مجھ پر طاری ہوئی میں ہی جانتا ہوں اور میرا دل جانتا ہے ۔ میں ایک روحانی بیمار تھا اور قرآن شریف کو اس نیت سےپڑھتا تھاکہ وہ ایک روحانی ڈاکٹر کی حیثیت سے میری بیماری کا علاج بتائیگا ، لیکن بجائے علاج بتانے کے مجھ کو صاف صاف سنایا کہ ” تم سے ہر شخص جہنم میں جائیگا کیونکہ تیرے رب پر یہ قطعی فرض ہوچکا ہے “۔
آیت بالا کی تفسیر خود آنحضرت ﷺ کی زبانی
لیکن جو محبت اور الفت مجھ کو اسلام کے ساتھ تھی اس نے مجھ کو ذاتی فیصلہ کرنے اور عجلت سے کام لینے سے روک دیا اور میں نے مناسب سمجھا کہ احادیث میں اس آیت کی تفسیر تلاش کروں اور دیکھوں کہ خود آنحضرت ﷺ اس کے تعلق کیا ارشاد فرماتے ہیں۔ چنانچہ تلاش کرتے کرتے مجھ کو ذیل کی حدیث مشکوة مل گئی۔
وعن ابن مسعود قال رسول الله صلعم یرد الناس النار ثم یصدون منھا باعمالم فادلھم کلمہ البرق ثم کالریج ثم لحضر الفرس ثم کالر اکب فی رحلہ ثم کشد الرجل ثم کمشیہ
(مشکوة کتاب القنن فی الحوض والشفاعت صفحہ 494مطبوعہ مجتباعی۔دہلی)
ترجمہ :ابن مسعود کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ سب لوگ دوزخ میں داخل ہونگے ۔ پھر اپنے اعمال کے بموجب ا س سے نکلیں گے۔ ان کے اعمال بجلی کی چمک کی طرح جلدی نکلیں ہیں پھر ہوا کی طرح ،پھر گھوڑے کی دوڑکی طرح ،پھر انسان کے پا پیادہ کی طرح ،اس حدیث کو ترمذی اور داری نے روائت کیا ہے۔
ضروری نوٹ:یَرد بروزن بعد صیغہ مضارع معروف دراصل یورد برون یوعد چونکہ داؤعلامت مضارع مفتوح اور کسر لازم کے درمیان واقع ہوا ہے۔ لہذا حذف کیا گیا ہے ۔وارد جو قرآن میں واقع ہوا ہے صیغہ اسم فاعل ہے۔ ان دونوں کا مصدر ایک “ورد”(۔۔۔۔اور مادہ “ورد”) ہے جس کے معنی اترنے اور داخل ہونے کے ہیں اس تعلیل سے میری مراد عربی دانی دکھانا مقصود نہیں ہے بلکہ یہ کہ جو لفظ قرآن شریف میں واقع ہوا ہے وہی لفظ حدیث شریف میں بھی آیا ہے ۔
اب مذکورہ آیت کا مطلع صاف ہوگیا کہ کل افراد انسان کا ایک دفعہ جہنم میں جانا لاابدی ہے پھر اپنے اپنے اعمال کے بموجب اس سے نکلتے رہیں گے ، گوکہ قرآن شریف کا مطلب آئینہ ہوگیا اور خود آنحضرت ﷺ نے بھی اس کی تصدیق کی اگرچہ میں چاہتاتو میں اپنی تحقیقات کو بند کرتا لیکن میں نے یہ نہیں کیا بلکہ میں نے یہ بہتر سمجھا کہ قرآن شریف کی آیت مذکورہ کی تفسیر خود قرآن سے ہی تلاش کروں ۔چنانچہ ڈھونڈتے ہوئے مجھے یہ آیت مل گئی۔
وَلوَشَآء رَبُکَ لَجَعَلَ النَاسَ اُمَةًوَّاحِدَةًوَلاَ یَزَالُونَ مُختَلِفینَ اِلاَ مَن رَحِمَ رَبُکَ وَلِذلِکَ خَلقَھمُ وَتَمتَ کَلِمَةُ رَبِکَ لاَمُلَئنَ جَھَمَ مِنَ الجنَةِوَالناَسِ اَجَعِینَ۔(قرآن شریف سورة ہود آیت 117،118)
ترجمہ : اگر آپ کا پروردگار چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی راہ پر ایک گروہ کردیتا ،وہ تو برابر اختلاف کرنے والے ہی رہیں گے ،(118)مگران کے جن پر آپ کا رب رحم فرمائے انہیں تو اسی لئےپیدا کیا ہے ،اور آپ کے رب کی یہ بات پوری ہو کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دو ں گا ۔(سورة ہود آیت 117،118ترجمہ مولانا محمد جونا گڑھی اسلامک بک ہاؤس نئی دہلی )
اب آپ اس تعلیم کو انجیل شریف بہ مطابق راوی حضرت یوحنا  رکوع 3 آیت 16سے مقابلہ کریں تب آپ کو معلوم ہوگاکہ نجات کس مذہب میں ہے (سلطان محمد خان پال )
اس آیت کو پڑھ کر جو صدمہ میرے دل کاپہنچا اس سے میں یہاں تک متاثر ہوگیا کہ قرآن شریف کو آہستہ سے بند کردیا اور اسی جگہ رکھ کر تفکرات میں مستغرق ہوگیا۔ خواب میں بھی چین نہ ملا ۔کیونکہ بیداری کے خیالات نیند میں مجسم ہو کر چھیڑرہے تھے، میرا دل بہت ہی مضطرب اور سیماب کی طرح بیقرار تھا لیکن اسلام کا ترک کرنا میرے لئے ازبس مشکل تھا۔جان دینا مجھ کو منظور تھا لیکن اسلام چھوڑنا نا منظور ۔ لہذا کچھ عرصہ تک سوچتا رہا اور اس جستجو میں رہا کہ اگر کوئی بھی حیلہ یا سہارا مجھ کو مل جائے تو میں اسلام کو ہر گز نہیں چھوڑوں گا۔اسی نیت سے احادیث کا سہارا ڈھونڈنے لگا مگر ایک بھی نہ ملی۔
البتہ اس مضمون پر ابی ذر سے ایک حدیث مروی ہے جس کے کھلے الفاظ اس بات پر ناطق ہیں کہ نجات بالا عمال کوئی چیز نہیں حتیٰ کہ زانی اور چور صرف لا الہ الہ الله کہنے سے نجات پاتا ہے وہ یہ ہے :
ابی ذر نے کہا میں آنحضرت ﷺ کے پا س آیا ۔ آپ سورہے تھے اور آپ پر سفید کپڑا تھا۔ میں پھر آیا تو آپ جاگتے تھے ۔ آپ نے فرمایا کہ ہر ایک بندہ جو لا اِلہ اِلا الله کہے اور اس پر مرجائے وہ جنت میں داخل ہوگا۔ میں نے کہا “اگر چہ چور یا زنا کا ر ہو پھر ؟” میں نے کہا کہ اگرچہ وہ چور ہو یا زانی ہو ؟”آپ ﷺ نے فرمایا “اگر چہ چور یا زانی ہو”پھر میں نے کہا کہ اگرچہ وہ چور یا زانی ہو ؟آپ ﷺ نے کہا “اگر چہ وہ چور ہو یا زانی ہو”اگرچہ یہ بات ابوذرکو ناگوار معلوم ہوئی۔(مسلم ،بخاری)
اعمال سے خود آنحضرت ﷺ بھی نجات نہیں پاسکتے
ابو ہریرہ نے کہا کہ :فرمایا ” آنحضرت ﷺ نے ہر گز تم میں سے کسی کو اس کا عمل نجات نہیں دے سکتا ۔ لوگوں نے کہا کہ آپ کو بھی نجات نہیں دے سکتا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا “نہیں” مگر جب خدا مجھ کو اپنی رحمت میں چھپالے ۔ پس مضبوط ہو اور کوشش کرو اور صبح وشام اور ہر وقت عمل میں کوشش کرو۔(مشکوة)
احادیث بالا میں مجھ کو قابل غور بات یہ معلوم ہوئی کہ جب تک خدا کا رحم شامل حال نہ ہو کوئی شخص نجات نہیں پاسکتا ۔ اس سے مجھ کو یک گونہ تسلی تو مل گئی لیکن ساتھ ہی یہ سوال بھی پیدا ہوا کہ اگر خدا صرف اپنے رحم سے معاف کردے تو صفت عدل معطل رہے گی اور تعطل سے خدا کی ذات میں نقص وارد ہوگا جو خدا کی شان کے شایاں نہیں۔
تیسری بات جو مجھ کو احادیث سے معلوم ہوئی یہ تھی کہ آنحضرت ﷺ بھی کسی کو نہیں بچا سکتے یہاں تک کہ اپنے قرابتداروں اور اپنی بیٹی فاطمہ کو بھی بچانے سے قاصر ہیں ۔ پس یہ خیال کہ قیامت کے دن آنحضرت شفاعت کریں گے جس کے متعلق میرا گمان تھا کہ صحیح ثابت ہوگا غلط ثابت ہوا۔ وہ حدیث یہ ہے :
ابوہریرہ سے روائت ہے کہ آنحضرت ﷺ پر جب یہ آیت نازل ہوئی کہ “اپنے قریب تر رشتہ داروں کو ڈرا تو آنحضرت ﷺ کھڑے ہو کر فرمانے لگے کہ “اے قریش کے لوگو اے عبد مناف کے بیٹو اے عباس عبدالمطلب کےبیٹے،اے صفیہ میری پھوپھی ،میں تم کو قیامت کے عذاب سے نہیں بچا سکتا ، تم خود اپنی فکر کرلو۔اے میری بیٹی فاطمہ :تو میرے مال سے سوا ل کرسکتی ہے لیکن میں تم کو خدا سے نہیں بچا سکتا ، تو اپنی فکر آپ ہی کر ۔”(صفحہ 702 مطبوعہ کرزن گزٹ ،دہلی)
پس احادیث کی وسیع اوردقیق چھان بین کے بعد میرے لئے کوئی حالت منتظر باقی نہ رہی جس کی میں اور انتظار کرتا۔ لہذا میں نے یاس وحرمان کے ساتھ احادیث کو بھی بند کردیا اور درگاِ الہٰی میں یوں دست بدعا ہوا کہ :
“اے خدا تو جو خالق ومالک ہے۔ جو میرے دل کے کل پوشیدہ ومخفی رازوں سے مجھ سے زیادہ واقف ہے، تو جانتا ہے کہ ایک مدت دراز سے میں سچے مذہب کا متجسس رہا ہوں۔ جو کچھ مجھ سے ہوسکا میں نے تحقیق کی پس تو مجھ پر اپنے عرفان اور نجات کا دروازہ کھول دے ۔ مجھ کو ان لوگوں کے زمرے میں داخل کر جو تیرے منظور نظر ہیں تاکہ جب میں تیرے نورانی حضور میں آؤں تو سرخرووسرفراز ہوں آمین۔”
انجیل شریف میں مجھے نجات مل گئی
اسی حالت ِ رنج والم میں میں نے پھر ایک بار انجیل شریف کو اٹھا کر دیکھنے لگا۔ بدیں خیال کہ اگر میری تحقیقات میں کوئی غلطی رہ گئی ہو تو اس کی اصلاح ہوجائے اب کی بار انجیل شریف کھولتے ہی جس آئت پر میری نظر پڑی وہ یہ تھی :
قول المسیح “اے محنت اٹھانے والو اور بوجھ سےدبے ہوئے لوگوسب میرے پاس آؤ میں تم کو آرام دونگا ( انجیل شریف بہ مطابق راوی حضرت رکوع 11 آیت 28)
میں نہیں کہہ سکتا کہ کس طرح انجیل شریف کا یہ رکوع کھل گیا اور اس آیت پر میری نگاہ پڑگئی۔ نہ میں نے قصد اً اس باب کو کھولا تھا اور نہ یہ کوئی امر اتفاقی تھا بلکہ یہ خدا کی طرف سے میری سخت محنت اور سچی تحقیقات کی مکافات اور مجھ جیسے گنہگار شخص کے لئے اعلے الاعلان خوشخبری اور بشارت تھی۔ مجھ پر اس آیت جان بخش کا بڑا اثر ہوا ۔ دل میں تسلی ،اطمینان اور سرور پیدا ہوگیا۔ دل کی بیقراری اور اضطراب یک قلم کا فور ہوگئے۔
میں ایک محققانہ روش سے انجیل شریف کا مطالعہ کرتا رہا اور بالاستیاب اول سے آخر تک کئی بار پڑھا۔ مجھ کو سینکڑوں ایسی آیات اور بیسیوں ایسی تماثیل ملیں جن کے پڑھنے سے مجھے پورا پورا یقین ہوگیا کہ نجات جو مذہب کی علت غائی اور اس کی جان ہے صرف سیدنا عیسیٰ مسیح پر ایمان رکھنے سے حاصل ہوسکتی ہے۔
پس ان تمام تحقیقات وتدقیقات کے بعد جو آپ کے پیش نظر میں نے یہی فیصلہ کیاکہ اب میں مسیحی ہوجاؤں گا اور یہ بھی مناسب معلوم ہوا کہ میں اپنی تحقیقات کو اپنی انجمن ضیاء الااسلام میں پیش کروں تاکہ اس پر اگر چاہیں تو بحث بھی کریں اور خفیہ تحقیقات کا الزام میرے سر سے ہٹ جائے۔
میں حسب معمول انجمن میں گیا۔ آج پھر منصور مسیح صاحب کی باری تھی مگر میں نے یہ کہہ کر ان کو روک دیا کہ آج میں خود اسلام کا مخالف ہو کر تقریر کروں گا ۔
میں نے کھڑے ہو کر سات سالہ (اور اگر دہلی کا بھی زمانہ شامل کیا جائے تو نو دس سال کی )تحقیقات پر تقریر کی۔ حاضرین سن کر متعجب اور متحیر رہ گئے ۔ اراکین انجمن کو فقط اس بات کی تسلی تھی کہ جیسی تقریر میں نے کی ہے ۔ ویسا ہی جواب دونگا ۔چنانچہ جب میں نے اپنی تقریر ختم کرلی اور بیٹھ گیا تو صدر ثانی صاحب نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ خود صدر صاحب ہی اپنی مخالفانہ تقریر کا جواب بھی دیں گے ۔
میں مسیحی ہوگیا
اس پر کھڑے ہو کر میں نے کہا کہ میرے دوستو سنو؛جو کچھ میں نے آپ کے سامنے بیان کیا ہے ،ظاہری یا مصنوعی نہیں بلکہ یقینی اور قطعی ہے۔ یہ تقریر دس سالہ تحقیقات پر مبنی ہے اور اعلیٰ الخلوص اس دن سے جب کہ جناب منصور مسیح صاحب نے نجات پر لیکچر دیا تھا میں نے خدا سے عہد کرلیا تھا کہ آج سے میں بائبل مقدس کو اس نیت نہیں پڑھوں گا جس طرح کہ پیشتر پڑھا کرتا تھا۔بلکہ ایک محقق کی طرح اس نیت اور مقصد سے پڑھوں گا کہ حقانیت اور صداقت مجھ پر ظاہر ہوجائیں۔ چنانچہ میں نے تعصب اور منطقی مغالطہ دہی کو بالائے طاق رکھ کر اوستا،سیتارتھ پرکاش اور بائبل اور قرآن شریف کا بالمقابل مطالعہ کرتا رہا اور میں اس نیتجہ پر پہنچا کہ نجات صرف مسیحی مذہب میں ہی ہے اور بس۔
یہ کہہ کر میں وہاں سے روانہ ہوا کیونکہ وہا ں ٹھہرنا مصلحت کے خلاف تھا۔مجھ کو نکلتے دیکھ کر منصور مسیح صاحب میرے پیچھے پیچھے روانہ ہوئے۔جب میرے پاس پہنچ گئے تو دونوں ہاتھ میرے گلے میں ڈال کر خوشی کے آنسو بہانے لگے اور تھرائی آواز سے کہنے لگے کہ آج رات میرے مکان میں آکر سوئیں کیونکہ آپ کا تنہا مکان میں رہنا خطرے سے خالی نہیں ہے۔میں نے ان سے کہا کہ “میری انجمن کے اراکین شائستہ اور تعلیم یافتہ ہیں۔ان سے مجھ کو کسی قسم کا خوف وخطرہ نہیں۔البتہ عوام سےخطرہ ہے۔اس لئے میں علیل الصبح اندھیرے ہی میں آپکے مکان پر آؤں گا۔ اور اگر اس وقت تک میں نہ آیا تو آپ خود میرے مطب میں تشریف لائیں۔
یہ کہہ کر ہم دونوں ایک دوسرے سے رحضت ہوئے۔میں اپنے مکان میں آکر دروازہ اندر سے بند کرکے چراغ بجھا کر تفکرات میں مبتلا بیٹھ گیا۔میں اس رات اور اس کے ڈراؤنے توہمات اور روحانی کشمکش کو کبھی نہ بھولوں گا۔
صبح ہوتے ہی منہ ہاتھ دھوکر منصور مسیح صاحب کی طرف روانہ ہوا۔جب میں ان کے مکان پر پہنچا تو وہ میرے انتظار میں پریشان تھے اور ان کو معلوم تھا کہ مجھے چائے پینے کی سخت عادت ہے۔ چائے تیار رکھی تھی۔چائے پی کی مختصر بات چیت کے بعد دعا میں مشغول ہوئے ۔دعا کے بعد جناب معظم پادری کینن لیجرڈ صاحب کے بنگلہ پر گئے۔
پادری صاحب موصوف کو ہماری اس بے وقت آمد سے حیرانی ہوئی۔ لیکن دفتر میں جاتے ہی منصور مسیح صاحب نے ان سے کہا مولوی صاحب بپتسمہ لینے کے لئے آئے ہیں۔اول تو پادری صاحب نے اس بات کو مذاق سمجھا لیکن جب ان کے سامنے گزشتہ رات کا واقعہ بیان کیا تو بے اختیار اٹھ کر گلے لگا کر کہنے لگے کہ “مجھ کو یقین تھا کہ اگر آپ نے غور سے بائبل کو پڑھا تو ضرور مسیحی ہوجائیں گے ۔ اب خدا کا شکر ہے کہ آپ ا سکے قائل ہوگئے۔یہ کہہ کر تین روز کے بعد بپتسمہ دینے کا وعدہ کیا اور ان ایا م میں احکام عشری ٰ ،رسولوں کا عقیدہ اور دعائے ربانی کے ازبر کرنے کی نصیحت کی اور کہنے لگے کہ “اب آپ کو واپس جانے کی صلاح نہیں دیتا ۔ یا تو آپ میرے ساتھ رہیں یا منصور مسیح صاحب کے ساتھ ۔”میں منصور مسیح صاحب کے ساتھ رہنے کے لیے راضی ہوا۔
جب اتوار کا دن آیا تو سارا گرجا مسلمانوں سے بھر گیا۔اس خطرے کو دیکھ کر پادری صاحب نے بپتسمہ ملتوی کردیا۔آخر کار خدا کے فضل وکرم سے 6اگست1903ء کو سینٹ پال چرچ بمبئ میں میرا بپتسمہ ہوگیا۔اور پھر اس کے بعد میں کانپور چلا گیا کیونکہ بمبئی میں رہنا میرے لئے خطرے سے خالی نہ تھا۔
میرے عزیزو؛ جب میں مسیحی ہو ا تو ایک عجیب انقلاب مجھ میں پیدا ہوا ۔ میرے افعال ،اقوال،رفتار سب بدل گئے۔حتیٰ کہ ایک سال کے بعد جب میں چند دنوں کے لئے بمبئ گیا تو خود وہاں کے مسلمانوں نے میر ے حق میں کہا “یہ شخص بالکل بدل گیا ہے۔ یہ کس قدر غصہ ور تھا اور اب کس قدر حلیم ہوگیا ہے۔
اگر چہ میں پہلے بھی گناہ کو گناہ سمجھتا تھا لیکن اس کو اس قدر خطرناک اور مہلک نہیں سمجھتا تھا جس قدر اب سمجھتا ہوں ۔اگر چہ اب بھی میں ایک کمزور اور مشتِ خاک انسان ہوں مجھ سے اکثر سہواً خطائیں سرزد ہوتی ہیں لیکن ساتھ ہی جس قدر رنج وغم شرم اور افسوس میرے دل میں پیدا ہوتے ہیں میں بیان نہیں کرسکتا۔اسی وقت منہ کے بل گر زار زار رو کر توبہ کرتا ہوں اور معافی چاہتاہوں۔یہ بات بجز ربنا المسیح کے کفارہ کے اور کسی طرح سے حاصل نہیں ہوسکتی۔
گناہ صرف توبہ ہی سے دور نہیں ہوسکتا بلکہ از بس لازمی ہے کہ ہمارے منجی عالمین سیدنا عیسیٰ مسیح کے خون سے صاف کیا جائے۔یہی وجہ ہے کہ دنیا آئے دن گناہ کو ایک معمولی بات سمجھ کر ہلاکت کے قریب ہوتی جارہی ہے ۔
بیشک شیطان اپنی تمام قوت کے ساتھ میرے خلاف مصروف ِ جنگ ہے تو بھی میں شکست خوردہ نہیں ہوں کیونکہ میر ا ایمان ہے کہ المسیح نے اس کے سر کو کچل دیا ہے۔شیطان المسیح کے وفادار مومنین کو نہ کوئی نقصان پہنچاسکتا ہے اور نہ ان پر غلبہ حاصل کرسکتا ہے۔الله تعالیٰ جو آسمان وزمین کا خالق ومالک او ر دلوں کا جاننے والا ہے اس سے دعا ہے کہ وہ میرے مسلمان بھائیوں کے دلوں کو اسی طرح بدل دے جس طرح اس نے میرے دل کو بدل ڈالا ہے۔ وہ انہیں ایک ایسی سوچ عطا فرمائے کہ وہ روز عدالت کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے اپنی گہری روحانی ضرورت کا احساس کرتے ہوئے جناب مسیح کے دائرہ ایمان میں شامل ہوجائیں۔
میرے عزیز مسلم بھائیوں آپ کا روحانی خیر خواہ ۔
سلطا ن محمد پال

ان کی تصانیف



واپس جائیں