islam

کربلا سے کلوری تک
میری پیدائش ایک شیعہ مسلم خاندان میں بمقام ناروال جو کہ اب مغربی پنجاب پاکستان کی حد پر ہے ہوئی ۔ اِس خاندان کو لوگ اِس کی بزرگی ،سنجیدگی اور مذہبی اصول کی پابندی اور رسوم کی ادائیگی کی وجہ سے بے حد عزت کی نظر سے دیکھتے تھے ۔ لوگ میرے دادا کا نام نہیں لیتے تھے بلکہ تعظیماً اُن کو لفظ جناب سے خطاب کرتے تھے۔نماز ومسجد اُن کی زندگی کا جز بن گئی تھی۔ بفرض محال اگر وہ دکان میں نہ ملیں تو سمجھ لیجئے کہ وہ مسجد میں ضرور ہوں ہوگے۔اُن کی قدیم یاد جب مجھے آتی ہے تو میں یاد کرتا ہوں کہ ایک چھوٹا سا بچہ ہو ں اور اُن کی گود میں بیٹھا ہوں اور وہ شام کی نماز کے بعد قرآن شریف کی تلاوت کررہے ہیں۔میری والدہ ماجدہ اِس قدر نیک تھیں کہ بہت سی عورتیں جو اُن کی قبر کے پاس دفن ہوئیں اُن کے سر میری والدہ مرحومہ کے پیروں کی جانب کئے گئے ۔ اُن کا ایک بھائی جو میرے ماموں ہوئے کربلا میں جا کربس گئے تھے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں رسول ﷺ کے نواسے حضرت امام حسین مارے گئے تھے۔
میرے خاندان کا روزانہ کا کام کاج صبح کی نماز اور قرآن پاک کی تلاوت سے شروع ہوتا تھا۔ جب میں صرف بچہ ہی تھا میں سید شاہ صاحب کے سپرد کردیا گیا تھا تاکہ ان کی مدد سے قرآن کا حافظہ کروں۔ اُن کی بیٹی نے میری بہن کو بھی قرآن پڑھنا سکھا دیا تھا۔دن بھر کا کام رات کی دعا کرنے کے بعد ختم کردیا جاتا تھا۔
یہ تھا ماحول اُس گھر کا جس میں میں نے پرورش پائی۔ بچپن ہی سے میں ایک مشن اسکول میں داخل کرادیا گیا تھا ۔ لیکن جلد ہی اُس کے بعد میں اونچے ابتدائی مدرسہ میں چڑھادیاگیا تھا۔اُن دونوں مدرسوں میں مسیحی تعلیم دی جاتی تھی ۔ بائبل کی تعلیم کو اِن مدارس میں بہ نسبت دیگر مضامین کے زیادہ اہمیت دی جاتی تھی۔ چونکہ میرا حافظہ اچھا تھا جب میں پانچویں درجہ میں پہنچا تو مسیحی تعلیم کی لیاقت اور معلومات میں میں دیگر مسیحی طلباء سے بدرجہا بہتر تھا۔شاید میری زندگی میں کوئی بھی ایسا سال نہ گزرا جبکہ میں نے بائبل کی تعلیم میں پہلا انعام نہ پایا ہو۔
میرے والد بزرگوار شیخ رحمت علی،ملنسار اورہمدرد انسان تھے۔ اُن کا رویہ ہر مذہب کی جانب سے بہت آزادانہ تھا ۔ ہندو ، مسلمان اور مسیحی سب اُن کے دوست تھے ۔ دوسرے فرقوں کے مسلمانوں سے بھی آپ کا کافی ربط ضبط تھا اگرچہ وہ کاروباری انسان تھے لیکن پھر بھی ہر صبح وہ قرآن اور بائبل کی تلاوت کرتے تھے۔ فارسی شعراء اور فارسی نثر نگار آپ کو بے حد پسند تھے۔برخلاف اُن کے میرے چچا صاحب جو ان کے چھوٹے بھائی تھے بہت ہی کٹر شیعہ تھے جو کہ صرف قرآن اور شیعہ تفسیر وں کا مطالعہ کرتے تھے۔ وہ میٹریکولیشن پاس تھے۔ یہ اُس شہر کے لئے اُس زمانے کے لحاظ سے اعلیٰ قسم کی سند تصور کی جاتی تھی۔ اُن کے کتب خانہ میں بہت سی ایسی کتابیں تھیں جوکہ مسیحیت اور ہندو مذہب کے خلاف تھیں۔ دیگر فرقے مسلمانوں کے خلاف بھی ان کے پاس کافی کتب تھیں۔
جب میرے چچا نے دیکھا کہ میں ہر سال بائبل کاانعام حاصل کرتا ہوں اور بہت سی آیتیں بھی مجھ کو ازبر ہیں تو اُنہوں نے مناسب سمجھا کہ میری دینی تعلیم کو اپنے ہاتھ میں لیں لہذا اُنہو ں نے مجھے چند کتابیں پڑھنے کے لئے دیں۔اُس وقت میری عمر ۱۲سال کی تھی۔ میں چھٹی جماعت میں تھا۔ سعدی اور فردوسی کا کلام بخوبی پڑھ سکتا تھا۔ پس میں اُن کتابوں کو جو میرے چچا نے مجھ کو دیں خوب پڑھ سکتا تھا ۔ ایک کتاب نے میر ے اُو پر بہت اثر کیا۔ اِس کا نام زبدة الااقوال فی تمرجح القرآن علیٰ انجیل تھا ۔ اِس کتاب میں مسیحیت اور اسلام کا موازانہ تھا۔ جس میں بائبل کی آیات کے حق میں تردید اور تنقید مندرج تھی۔ اِس کتاب کو میں ہر وقت پڑھتا تھا۔میں وہاں جاتا تھا جہا ں مسیحی بازاروں میں منادی کرتے تھے۔ میں اُن سے حجت کرتا تھا اور اُن کو بڑی مشکل میں ڈالتا تھا۔
اُن کتابوں کے زیر اثر جو مسیحیت کے خلاف تھیں میں ایک بار متی رسول کی انجیل کو جلا ڈالا ۔ میں ایک دن چراغ جلائے اِس کتاب کو پڑھ رہا تھا ۔ معلوم نہیں کون سا مضمون تھا جو میں پڑھ رہا تھا میں نے چراغ کی لومیں کتاب لگادی اور جلا ڈالی۔ میری والدہ یہ دیکھ کر ڈرگئیں لیکن میں نے اُن کو دلاسا دیا اور بتایا کہ میں نے ایک انجیل جلادی ہے۔لیکن اُن کی آواز نے والد صاحب کو بھی اِدھر متوجہ کردیا وہ کمرے میں آئے اور انہوں نے مجھ کو کانی تنبہ کی۔ اُنہوں نے کہا بتاؤ تم کو کیسا لگے گا اگر کوئی مسیحی قرآن کو جلادے۔ اُنہوں نے میرے چہرے پر خوف وڈر کے آثار دیکھے تو اُنہوں نے شیخ سعدی کا ایک قول پیش کیا یعنی دوسروں کے ساتھ وہ سلوک نہ کرو جو کہ تم نہیں چاہتے ہو کہ دوسرے تمہارے ساتھ کریں۔میرے چچابھی کمرے میں آگئےتھے ۔لیکن بڑے بھائی کے سامنے کچھ بول نہ سکے لیکن بعد میں میرے چچا نے مجھ سے کہا کہ جو کچھ بھی میں نے کیا ہے ایک بڑا کام ہے یہ گناہ نہیں ہے۔
محّرم کا مہینہ شیعہ مسلمانوں کے لئے ایک پاک مہینہ مانا جاتا ہے کیونکہ حضرت امام حسین اس ماہ قتل ہوئے تھے۔ ہر سال اس ماہ سے چودہ روز قبل شیعہ لڑکے جمع ہو کرایک جلوس شہر کی سڑکوں پرنکالتے تھے اور میرے چار ساتھی میرے ساتھ یہ نعرہ لگاتے تھے۔ اور اپنا سینہ پیٹتے تھے:۔

حسُین ۔حسُین ۔حسُین ۔حسُین
شہید کربلا حسُین
ایک بار ہم نے لکھنو سے ایک ذاکر بلایا (واقعات جنگ کربلا کا ذکر کرنے والا ) اُس کے پاس ایک ڈنڈا تھا جس میں قریباً ایک درجن تیز چھریا بندھی ہوئیں تھیں۔ اُس نے اُن چھریوں سے اپنے تمام شانے زخمی کر ڈالے۔ جوش عقیدت میں میں نے چھریاں اپنے ہاتھ میں لے لیں اور اپنے شانوں کو بری طرح زخمی کر ڈالا میرے ماموں نے زبردستی میرے ہاتھوں سے اُن کو چھین لیا۔ اس واقعہ سے میں اپنے جوش وخروش اور پاکبازی میں مشہور ہوگیا۔
ایک واقعہ میرے بچپن کا ہے مجھ کو یاد ہے۔ چند مسیحی مُبشر بازار میں منادی کررہے تھے ۔اُن میں سے ایک یو۔پی کے مسٹر ٹامس تھے۔ وہ ایک رنگ ریز (کپڑے رنگنے والا) کی دکان کے پاس منادی کررہے تھے کہ یک لخت وہ رنگ ریز جو ایک مسلم تھا اور نہایت قومی ہیکل تھا نکلا اور جاکر مسٹر ٹامس کے منہ پر تھوک دیا اور زور کا طمانچہ بھی اُن کے گال پر رسید کیا۔ لوگوں کو امید تھی کہ اب لڑائی ہوجائے گی کیونکہ مسٹر ٹامس بھی کافی تندرست تھے۔لیکن برخلاف اِس کے مسٹر ٹامس نے اپنا رومال نکالا اور اپنے گال کو پونچھ لیا اور منادی کرناشروع کردی۔ مسٹر ٹامس نے اس مسلم رنگ ریز سے کہا “خدا تم کو برکت دے ” یوں وہ منادی کرتے رہے۔
رنگ ریز اپنی دکان میں خاموش واپس چلا گیا۔ مسٹر ٹامس کے اِس رویہ نے لوگوں پر ایک بہت اچھا اثر پیدا کیا۔ اِس واقعہ نے مجھ کو سرتا پا ہلادیا۔ کیونکہ میں خیال کرتا تھا کہ مسیح کا پہاڑی وعظ ایک غیر عملی تعلیم ہے اور قابل قبول نہیں ہے۔
جب میں نے آٹھواں درجہ پاس کرلیا تو میں ایک مشن ہائی اسکول میں داخل کرادیا گیا۔ اِس اسکول میں بھی میں نے تمام بائبل کے انعامات حاصل کرے۔ میرا ایک ساتھی بنام نور محمد مسیحی ہونا چاہتا تھا لیکن میں اُس کو ہمیشہ ایسا کرنے سے روکتا رہا۔طلباء اور تمام استادوں کی نظر میں میں مذہبی لیاقت اور علم میں نہایت قابل سمجھا جاتا تھا ۔ میں بازاروں میں اُن جگہوں پر پہنچ جاتا تھا جہاں مسیحی منادی کرتے تھے۔ میں اُن سے عجیب عجیب سوالات کرتا اور یوں اُن کے جلسوں کو درہم برہم کردیتا تھا۔
وہ شہر جہاں میرا اسکول تھا نہایت گندہ شہر تھا ( اخلاقی اعتبار سے ) لہذا مجھ کو بھی وہاں کی ہوا لگ گئی۔یہ میرا عالمِ شباب تھا۔یہ وہ عالم تھا جبکہ زندگی بے حد اثر پذیر ہوتی ہے۔ اسکول اور بورڈنگ ہاؤس کی ہوا بدی اور ناراستی سے بھری ہوئی تھی۔ ایک استاد جو کہ بورڈنگ ہی میں رہتا تھا نہایت ہی بدکار اور شر پسند تھا۔ اس ماحول نے میری زندگی میں بدکاری کے جذبات بھر دیے تھے۔ اب مجھ کو اپنے گناہوں کی معافی اور کھوئی ہوئی زندگی اور اُس کی خوبیوں کو دوبارہ پانے کی ضرورت محسوس ہورہی تھی۔ میں روز ایک نزدیک کی مسجد میں جاتا اور نماز اور دعا کرتا کہ اے خدا تو مجھے گناہوں سے رستگاری بخش دے اور شیطان کے ہاتھوں سے چھڑالے۔ لیکن مجھ کو کوئی جواب اِس دعا کا ملتا نظر نہ آیا ۔گناہ کا کانٹا میرے بدن میں ہر وقت چبھتا رہتا تھا اور ہمیشہ میرے دل میں کھٹکتا رہتا تھا۔
اب میری زندگی میں ایک تبدیلی واقع ہوئی جبکہ میں خوش خوش گھر واپس جارہا تھا کہ اپنے والدین کو بتاؤں کہ میں درجہ نو(۹) میں خوبی کے ساتھ کا میاب ہوگیا ہوں اور بلکہ اپنےدرجے میں اوّل آیاہوں۔میرے چہرے پر خوشی اور مسرت کے آثار نمایاں تھے لیکن جب میں شہر میں داخل ہوا تو ہر چیز پر میں نے ایک عجیب اداسی اور رنج وغم کی کیفیت پائی۔ دروازے پر میرے چچا محسن کھڑے تھے۔ وہ مجھ کو کو الگ لے گئے اور مجھ سے کہا کہ میرے والد مسیحی ہوگئے ہیں۔اور اس وجہ سے شہر میں ایک ہیجان پیدا ہوگیا ہےاور ہرشخص غم زدہ ہےکیونکہ وہ یعنی میرے والد انجمن اسلامیہ کے صدر تھے۔میں لڑکھڑا تا ہوا اندر داخل ہوا۔اُس وقت میرے والد گھر میں نہ تھے۔میری والدہ ،دو بہنیں اور دو بھائی تھے وہ بھی مسیحی ہوگئے تھے انہوں نے مجھ کو گلے لگالیا۔میرے ذہن سے اُس وقت تمام تفکرات اور غم کی شدت اُن سے مل کر دورہوگئ تھی۔میرے چچا صاحب کمرے میں آئے اور مجھ کو الگ لے جا کر بولے کہ تم اب اس مشرک خاندان کے شریک نہیں ہو سکتے ہو۔ میں تم کو گود لے لو ں گا کیونکہ میں تم سے اپنے حقیقی بچوں کی طرح محبت کرتا ہوں (یہ سچ ہے )میں تم کو ایم۔اے تک پڑھاؤں گا اور تم کو کوئی تکلیف نہ ہوگی ۔ میں نے جواب دیا۔اگرچہ والد صاحب مسیحی ہوگئے ہیں لیکن میں آپ کے پاس رہوں گا اور طور سے ہر امر میں جو کہ درست اور شرعاً صحیح ہیں تابعدار ہوں گا۔جب میرے والد گھر آئے تو وہ مجھ کو دیکھ بہت خوش ہوگئے لیکن میں اُن کے چہرے پر دکھ اور تکلیف کے نشان جو کہ اُن کے شہر والوں کے ستانے سے پیدا ہوئے تھے دیکھ بہت غمگین ہوگیا۔ وہ میرے اِس جواب سے جو میں نے چچا کو دیا تھا بہت خوش ہوئے۔
دو روز کے بعد میں شہر کے چند بزرگوں کی جانب سے بلایاگیا۔ میرے ہونے والے سسر مجھ کو ہاتھ پکڑ کر وہاں تک لے گئے۔میر ے سسر نے وہاں اُن کے سامنے قرآن شریف کی قسم لی اور اقرار کیا کہ وہ مجھ کو ایم۔اے تک تعلیم دیں گے بشرطیکہ میں مسیحی نہ ہوں اور اپنے والد کی پیروی نہ کروں۔میں نے اُن سے جووہا ں جمع تھے کہا ،کہ میرا کوئی ارادہ ترک ِ اسلام کا نہیں ہے ۔ اور نہ ہی کوئی ارادہ اپنے عزیزوں کو ترک کرنے کا ہے جنہوں نے دین عیسوی کو قبول کرلیا ہے ۔ میں جانتا ہوں کہ اُن کا اِس میں کو ئی برا مقصد نہیں ہے۔اُنہوں نے کہاکہ یہ سب درست ہے ہم کو اُن کے ارادوں کی بابت تو کوئی شک نہیں لیکن پھر بھی ہم آرام سے نہیں بیٹھ سکتے جبکہ ہمارا صدر مشرک ہوجائے ہم پر ہر کوشش اپنے دین اور ملت کی حفاظت میں واجب ہے۔میں نے اُن سے کہا کہ میں یہ سن کر افسوس کرتا ہوں ۔شاید آپ مجھ کو دائرہ اسلام میں رہنے کے لئے لالچ دے رہے ہیں۔
اسی رات میں نے اپنے والد سے دل کھول کر باتیں کیں۔ انہوں نے کہا ،میں تم کو اپنے بپتمسہ کی خبر ا س لئے نہیں دی کہ ایسا نہ ہو کہ تمہارے امتحان میں کوئی گڑ بڑ واقع ہو۔ وہ پچھلے بیس (۲۰)سال سے حق کی تلاش میں تھے بالا آخر اُن کو حق مسیح ہی میں ملا۔ وہ میرے اِس فیصلہ سے جو میں نے اپنے حق میں بزرگان دین کے روبرو کیا تھا بے حد خوش ہوئے۔ اُن کا استقلال اور وقار اور محبت آمیز صبر کے طریقے اور اُن کا دکھ اٹھانا اُن تمام چیزوں نے میرے ذہن پر ایک ایسا نقش جمادیا کہ میں نے بھی فیصلہ کرلیا کہ میں انجیل شریف کا مطالعہ کروں گا تاکہ وہ چیز معلوم کروں جس نے میرے والد پر اثر کیا ہے۔
انجیل کے مطالعہ میں میرے والد نے خود میری مد د کی۔ کتابیں جو انہوں نے مجھ کو پڑھنے کے لئے دیں اُن میں سے ایک فینڈر صاحب کی کتاب بنام” میزان الحق” اور ایک ٹسڈل صاحب کی کتاب بنام” اسلام کے اعتراض مسیحیت پر”تھی۔اور کچھ کتابیں جو امام دین کی تصنیف کردہ تھیں۔میں نے اُن کتابوں کو بڑی ہوشیاری سے پڑھا۔ ان کتابوں نے مجھ کو قائل کردیا کہ انجیل شریف مستند ہے جس میں مسیح کے سچے اقوال مندرج ہیں۔اب جو رکاوٹ میرے بپتسمہ لینے میں تھی تو صرف ان تین مسائل پر تھی (۱)الوہیت مسیح ،(۲) کفارہ ،(۳)تثلیث ۔میرے والد نے مجھ کو چند اور کتابیں دیں لیکن یہ ذرا میرے لئے اس وقت ادق تھیں۔ میرے لئے یہ مسائل ایمان لانے کے لئے بنیادی مسائل تھے جن کو مجھے قبول کرنا تھا۔ مسیح زندگی کے مطالعہ نے مجھ کو اِس قابل تو بنادیا تھاکہ میں اپنے والد کے نقش ِقدم پر چلوں اور مسیح کو اپنا بچانے والا قبول کروں ۔بہ نسبت دیگر انبیاء کے مسیح ہی نے اپنے قبر سے جی اٹھنے سے گناہ پر فتح حاصل کی۔ پس صرف وہی مجھ کو میرے گناہوں سے بچا سکتا ہے۔ جس کا میں دراصل قائل ہوچکا تھا۔
اِک آن واحد میں کلوری کی صلیب میرے لئے معنی خیز بن گئی وہ صلیب پر میرے گناہوں کی خاطر مارا گیا۔ اگرچہ وہ بے گناہ تھا مجھ کو یقین ہوگیا کہ خدا نے میرے گناہ اس میں معاف کردئیے۔ بپتسمہ کے وقت میں نے محسوس کیا کہ گناہوں کا ایک بڑا بوجھ میرے کاندھوں سے اتر گیا۔ میں اِس وقت مسر ت کا بین نہیں کرسکتا وہ کیسی عجیب مسرت تھی اور اِس بات کا یقین کہ میرے گناہ معاف ہوگئے ہیں میری زندگی میں ایک چین وآرام سا معلوم ہونے لگا ۔ یہ ایک ایسا تجربہ تھا جو کہ بالکل نیا اور عجیب تجربہ تھا جس کا میں ذکر نہیں کرسکتا۔
میں اِس وقت بالکل جوان تھا جبکہ میں نے گناہوں کی معافی اور مسیح میں نئی زندگی کا تجربہ حاصل کیا۔ جب میں اپنے مسیحی تجربے پر نظر کرتاہوں جو میں نے اُن برسوں میں حاصل کئے میرا دل اُس کے شکر ا ور بے بہا فضل سے لبریز نظر آتا ہوں۔ جوں جوں میں عمر اور علمی لیاقت میں بڑھتا گیا میرے تجربے کا نظر یہ بھی وسیع ہوتا گیا۔ اِس کی حقیقت اور زیادہ عیاں ہوتی گئی۔ میرا عقیدہ کہ صرف مسیح مصلوب ہی اس ٹوٹی اور کھوئی ہوئی انسانیت کی امید ہے اور بھی گہرا ہوتا گیا ۔ گناہ سے چھٹکارا اور راستباز اور پاکیزہ زندگی کو حاصل کرنا صرف مسیح ہی میں ہے۔
میں ہمیشہ اس بات کا شائق رہا کہ میں اپنا تجربہ اور اپنے خیالات مسلم بھائیوں کو بھی بتاسکوں۔ میں نے چند کتابیں بھی لکھی ہیں تاکہ وہ اِس صداقت کو جو مسیح میں ہے پاسکیں اور اِس خوشی اور زندگی میں میرے شریک ہوں جو کہ کلوری کی صلیب سے نکلتی ہے۔ اُن کے لئے میری دعا ہے کہ کاش وہ بھی اِس نجات کی خوشی کو حاصل کریں جو میں کرچکا ہوں جناب مسیح میں جوجہاں کا نجات دہندہ ہے حاصل کریں۔

ان کی تصانیف



واپس جائیں