امن کی تلاش

انسان ہر جگہ امن چاہتاہے۔ ہمارے دلوں میں سلامتی سے رہنے کی خواہش پائی جاتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا سماج پُرسکون ہو اورایک ایسی دنیا میں رہنے کی آرزو رکھتے ہیں جہاں لڑائی جھگڑے نہ ہوں۔ ہم چاہتے ہیں کہ قدرت زیادہ بے رحم نہ ہو اور ہم اطمینان سے اپنا کام کریں۔ اخبارات اور دیگر ذرائع سے احساس پیدا ہوتاہے کہ امن وسلامتی خریدے جاتے ہیں۔ اس کے متلاشی اکثر مذہب کی طرف مائل ہوجاتے ہیں جیسے کہ مذہب معجزہ ہے جس سے مسائل حل ہوجائیں گے۔ ایسے لوگ کم عقل ہیں اور وہ نہیں سوچتے کہ بے چینی کا خاص سبب کیا ہے۔ لوگ ایک تیرتھ استھان دوسرے کو اورایک مذہبی پیشوا سے دوسرے کے پاس جاتے رہتے ہیں ۔ اس کا نتیجہ مایوس کن رہتاہے۔ اس سے ثابت ہوتاہے کہ ہمیں بنیادی علم نہیں ہے۔ مذہبی رسومات دعاؤں اور بدیوں کا خاطرہ خواہ فائدہ نہ ہوتے دیکھ کر ہم گھبراجاتے ہیں۔ اقوام متحدہ جیسے ادارہ کے تحقیقات کے مطابق بُرائی کی جڑ کا ٹھیک پتہ لگانے کی ضرورت ہے اوراس کے بغیر علاج ناممکن ہے۔ بین الاقوامی کانفرنس میں ریزولیوشن پاس کئے جاتےہیں کہ ہم قیام امن کی خاطر مل کر کام کرینگے مگروہ بھی کامیاب نہیں ہوتے ہیں۔ پاک کلام میں انسانی سائنس کا مثبت جواب موجود ہے۔ اشارہ کیا گیا ہے کہ خدا نے کل کائنات اور موجودات کو ایک خاص ڈھنگ سے ترتیب دے کر بنایاہے۔ لیکن افسوس ہم نے خدا کی نافرمانی کی اوراُس کی حکمت اور رہنمائی کو ناچیز جانا ۔ اب خود ہماری زندگی اورسماج کے لئے خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ ہم خود اپنی کوششوں سے اس مسئلہ کو جتنا سلجھانے کی کوشش کرتے ہیں اتنے ہی مایوس ہوتے جارہے ہیں۔ پھر بھی اس مسئلہ کا حل پاک کلام میں پایا جاتاہے ۔ اوریہی کلام مقدس کا مرکزی پیغام ہے۔ ہمیں توبہ کرنا اور خدا کی طرف رجوع لانا چاہیۓ تب ہی خدا ہمیں معاف کرے گا اور بُری شفقت سے ہماری رہبری کرے گا۔ اگرایک بار ہمارا ماحول خدا تعالیٰ کے فضل میں آجائے توانسانی سماج خود بخود صحیح راستہ پر آجائے گا اور اُسے کوئی خطرہ نہ ہوگا اورہمیشہ کیلئے امن ہوجائے گا۔ خدانے حکم دیا: "کہ زمین جانداروں کو اُن کی جنس کے موافق چوپائے اور رینگنے والے جانور اورجنگلی جانور اُن کی جنس کے موافق پیدا کرے اور ایسا ہی ہوا۔ اورخدا نے جنگلی جانوروں اورچوپایوں کو اُنکی جنس کے موافق اور زمین کے رینگنے والے جانداروں کو اُن کی جنس کے موافق بنایا اورخدا نے دیکھا کہ اچھاہے۔پھر خدا نے کہا کہ ہم انسان کو اپنی صورت پر اپنی شبیہ کے مانند بنائیں اور وہ سمندر کی مچھلیوں اورآسمان کے پرندوں اور چوپایوں اور تمام زمین اورسب جانداروں پر جو زمین پر رینگتے ہیں اختیار رکھیں۔ اورخدا نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ اورخدا نے اُن کو برکت دی اور کہا کہ پھلو اور بڑھو اور زمین کومعمور اور محکوم کرو اور سمندر کی مچھلیوں اور ہوا کے پرندوں اورکل جانوروں پر جو زمین پر چلتے ہیں اختیار رکھو۔ اورخدا نے کہا کہ دیکھو میں تمام روئے زمین کی کل بیج دار سبزی اور ہردرخت جس میں اُس کا بیج دار پھل ہو تم کو دیتاہوں۔ یہ تمہارے کھانے کو ہوں۔ اور زمین کے کل جانوروں کے لئے اورہوا کے کل پرندوں کے لئے اوراُن سب کے لئے جوزمین پر رینگنے والے ہیں جن میں زندگی کادم ہے ۔ کل ہری بوٹیاں کھانے کو دیتا ہوں اورایسا ہی ہوا۔ اورخدا نے سب پر جواُس نے بنایا تھا نظر کی اوردیکھا کہ بہت اچھاہے"(توریت شریف کتابِ پیدائش رکوع 1 آیت 24تا 31)۔ اس کے بعد کیا ہوتاہے: " کیونکہ جو کچھ پروردگار ِ عالم کی نسبت معلوم ہوسکتا ہے وہ ان کے باطن میں ظاہر ہے ۔اس لئے کہ پروردگار نے اس کو ان پر ظاہر کردیا۔کیونکہ اس کی ان دیکھی صفتیں یعنی اس کی ازلی قدرت اور الوہیت دنیا کی پیدائش کے وقت سے بنائی ہوئی چیزوں کے ذریعہ سے معلوم ہوکر صاف نظر آتی ہیں۔یہاں تک کہ ان کو کچھ عذر باقی نہیں۔اس لئے کہ اگر چہ انہوں نے پروردگار کو جان تو لیا مگر اس کی خدائی کے لائق اس کی تمجید اور شکرگزاری نہ کی بلکہ باطل خیالات میں پڑگئے اور ان کے بےسمجھ دلوں پر اندھیرا چھا گیا۔وہ اپنے آپ کو دانا جتا کر بیوقوف بن گئے ۔اور غیرفانی رب کی بزرگی کو فانی انسان اور پرندوں اور چوپایوں اور کیڑے مکوڑوں کی صورت میں بدل ڈالا۔اس واسطے پروردگارِ عالم نے ان کے دلوں کی خواہشوں کے مطابق انہیں نجاست میں چھوڑ دیا کہ ان کے بدن آپس میں بے حرمت کے جائیں۔اس لئے کہ انہوں نے پروردگار کی سچائی کو بدل کو جھوٹ بنا ڈالا اور مخلوقات کی زیادہ پرستش اور عبادت کی بہ نسبت اس خالق کے جو ابد تک محمود ہے۔آمین۔ خدا کی ہدایات صاف تھیں۔ پھر خدا نے حضرت موسیٰ کے ذریعہ یہ احکام دئیے: "میرے آگے تواور معبودوں کو نہ ماننا"۔ "تواپنے لئے کوئی تراشی ہوئی مورت نہ بنانا نہ کسی چیز کی صورت بنانا اورجو اُوپر آسمان میں یا نیچے زمین پر یا زمین کے نیچے پانی میں ہے۔ تواُن کے آگے سجدہ نہ کرنا اورنہ اُن کی عبادت کرنا کیونکہ میں خداوند تیرا خدا غیر خدا ہوں اورجومجھ سے عداوت رکھتے اور میرے حکموں کومانتے ہیں رحم کرتاہوں "۔ توخداوند اپنے خدا کا نام بے فائدہ نہ لینا کیونکہ خداوند اُس کو جواُس کا نام بے فائدہ لیتاہے بے گناہ نہ ٹھہرائے گا"۔ توخداوند اپنے خدا کے حکم کے مطابق سبت کے دن کو یاد کرکے پاک ماننا"۔ "اپنے باپ اور اپنی ماں کی عزت کرنا جیسا خداوند تیرے خدا نے تجھے حکم دیا ہے تاکہ تیری عمر دراز ہو اورجوملک خداوند تیرا خدا تجھے دیتاہے اُس میں تیرا بھلا ہو"۔ "توخون نہ کرنا ۔توزنا نہ کرنا ۔ توچوری نہ کرنا ۔ توجھوٹی گواہی نہ دینا۔ تواپنے پڑوسی کی بیوی کا لالچ نہ کرنا اورنہ اپنے پڑوسی کے گھر یا اُس کے کھیت یا غلام یا لونڈی یا بیل یا گدھے یا اُس کے کسی اورچیز کا خواہاں ہونا"۔(توریت شریف کتابِ استشنا 5باب آیت 12۔16۔21)۔ یسعیاہ نبی نے اس بات کی عکاسی کی ہے کہ خدا کے قوانین کی خلاف ورزی کا کیا نتیجہ ہوتاہے۔ "دیکھو خداوند کا ہاتھ چھوٹا نہیں ہوگیاکہ بچا نہ سکے اور اُس کا کان بھاری نہیں کہ سُن نہ سکے۔ بلکہ تمہاری بدکرداری نے تمہارے اور تمہارے خدا کے درمیان جدائی کردی ہے اور تمہارے گناہوں نے اُسے تم سے روپوش کیا ایسا کہ وہ نہیں سنتا۔ کیونکہ تمہارے ہاتھ خون سے اورتمہاری انگلیاں بدکرداری سے آلود ہ ہیں۔ تمہارے لب جھوٹ بولتے اورتمہاری زبان شرارت کی باتیں بکتی ہے۔کوئی انصاف کی بات پیش نہیں کرتا اورکوئی سچائی سے حجت نہیں کرتا۔ وہ بطالت پر توکل کرتے ہیں اورجھوٹ بولتے ہیں۔ وہ ریاکاری سے باردار ہوکر بدکرداری کوجنم دیتے ہیں۔وہ افعی کے انڈے سیتےاورمکڑی کا جالا بنتے ہیں۔ جو اُن کے انڈوں میں سے کچھ کھالے مرجائے گا اورجو اُن میں سے توڑا جائے اُس میں سے افعی نکلے گا۔اُن کے جانے سے پوشاک نہیں بنے گی ۔ وہ اپنی دست کاری سے ملبس نہ ہوں گے۔ اُن کے اعمال بدکرداری کے ہیں اورظلم کا کام اُن کے ہاتھوں میں ہے۔ اُن کے پاؤں بدی کی طرف دوڑتے ہیں اور وہ بے گناہ کا خون بہانے کے لئے جلدی کرتے ہیں۔ اُن کے خیالات بدکرداری کے ہیں۔ تباہی نہیں جانتے اوراُن کی ردِش میں انصاف نہیں ۔ وہ اپنے لئے ٹیڑھی راہ بناتے ہیں۔ جوکوئی اُس میں جائیگاسلامتی کونہ دیکھے گا"۔(بائبل مقدس صحیفہ حضرت یسعیاہ 59باب آیت 1تا 8)۔ اس کے بعد حضرت یسعیاہ ہی نے اپنی نبوت میں اس بات پر زور دیاکہ خدا نے منصوبہ ہمارے لئے رکھاہے ہمیں اُسی پرعمل کرنا چاہیے ۔ خداوند فرماتاہے کہ" ملعون ہے وہ آدمی جوانسان پر توکل کرتا ہے اوربشر کو اپنا بازو جانتاہے اورجس کا دل خداوند سے برگشتہ ہوجاتاہے۔ وہ جھاڑی کی مانند ہوگا جو بیابان میں ہے اورکبھی بھلائی نہ دیکھے گا بلکہ بیابان کی بے آب جگہوں میں اور غیر آباد زمین شور میں رہے گا۔ مبارک ہے وہ آدمی جوخداوند پر توکل کرتاہے ۔ کیونکہ اُس درخت کی مانند ہوگا جوپانی کے پاس لگایا جائے اوراپنی جڑ دریا کی طرف پھیلانے اورجب گرمی آئے تواسے کچھ خطرہ نہ ہو بلکہ اُس کے پتے ہرے رہیں اورخشک سالی کا اُسے کچھ خوف نہ ہو اورپھل لانے سے باز نہ رہے۔

By: admin | Posted on: Sep.30, 2015

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *